تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
24 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 19:23

ریٹائرمنٹ کے بعد میری اور اہل خانہ کی جان کو خطرہ ہے،ظفر قریشی

جنگ نیوز -


اسلام آباد . . . . . . این آئی سی ایل کرپشن کیس کے تفتیشی افسر ظفر قریشی نے انشورنس کمپنی کیس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے ۔ظفر قریشی نے این آئی سی ایل کرپشن کیس کی 250صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ۔ جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد با اثر افراد کی طرف سے مجھے اور اہل خانہ کو جان کا خطرہ ہے،ان کا کہنا ہے کہ 30ستمبر کو ریٹائر ہو رہا ہوں، اگلی رپورٹ داخل کرنے کا وقت 6اکتوبر ہے لہذا یہ میری آخری رپورٹ ہے، سپریم کورٹ میری اور خاندان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کی فراہمی کے احکامات دے، رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے با اثر افراد کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے، ِ ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ نے عدالتی حکم کے باوجود کیس کی تفتیش میں کوئی تعاون نہیں کیا،ڈی جی ایف آئی اے نے تفتیشی رپورٹ پر دستخط بھی نہیں کیے جو عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے، این آئی سی ایل کرپشن کیس کی تفتیش میں سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے نے رکاوٹیں ڈالیں،دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کے ملزم مونس الہی کی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں دوبئی سے9کروڑ12لاکھ سے زائد رقم منتقل ہوئی، مونس الہی کی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں یہ رقم 21ستمبر سے 24دسمبر 2010کے دوران منتقل ہوئی، 6کروڑ 72لاکھ 43ہزار کی مزید رقم بھی مونس کی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں آئی، ان کی اہلیہ کے ایک اکاؤنٹ میں مجموعی رقم 16کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے ، مونس الہی کی اہلیہ کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتیں۔اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت فنانشل مانیٹری یونٹ کو تفتیش کے لیے لکھا گیا ہے، ، ظفر قریشی نے رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے ، سیکرٹری داخلہ اور قانون نے باوجود درخواستوں کے پبلک پراسیکیوٹر بھی مقرر نہیں کیا، مونس الہی کے برطانوی اکاونٹ میں گیارہ لاکھ پاونڈ سے زائد رقم موجود ہے، ڈی جی ایف آئی اے نے مونس کے اکاونٹس کے بارے برطانوی ادارے سوکا کی اصل رپورٹ فراہم نہیں کی، این آئی سی ایل کیس کی تفتیش کے دوران میرے اور تحقیقاتی افسران کے فون ٹیپ کیے جاتے رہے، ٹیلی فون ٹیپ کرنے کے بعد اس کی تفصیلات پرائیوٹ لوگوں کو فراہم کی جاتی رہیں،ڈی جی آئی بی کو ٹیلی فون ٹیپ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے درخواست دی گئی ہے، این آئی سی ایل کرپشن کیس کی تفتیش روکنے کے لیے وزیر داخلہ رحمان ملک کی طرف سے چار آپشن دئیے جانے کے بیان حلفی کے بعد مجھے جان کا خطرہ ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.