25 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 17:24
ملکی سلامتی کیلئے حکومتی پالیسی اور مسلح افواج کے ساتھ ہیں، الطاف حسین
جنگ نیوز -
لندن…وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ۔ دونوں رہنماوٴں کے درمیان پاکستان کے خلاف امریکی الزامات ،دھمکیوں اور اس صورتحال میں قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے امریکہ کی جانب سے پاکستان پر الزامات کے حوالہ سے الطاف حسین کے حالیہ بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ حکو مت ملک میں قومی اتفاق رائے قائم کرنا چاہتی ہے اور حکومت بھی انہی نکات پر غورکررہی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی قیادت کا اجلاس طلب کیا جائے ، سیاسی رہنماوٴں کو موجودہ حالات پر بریفنگ دی جائے اور قومی سلامتی کیلئے انہیں بھی اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا جائے تاکہ ملک وقوم کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے۔وزیراعظم نے الطاف حسین کو قومی اتفاق رائے کیلئے مختلف سیاسی رہنماوٴں سے اپنے رابطوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ الطاف حسین نے پاکستان کی نازک صورتحال میں وزیراعظم کی جانب سے مشترکہ لائحہ عمل اور قومی اتفاق رائے کیلئے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ میں طویل عرصے سے پاکستان کی قومی سلامتی وبقاء کے خلاف ہونے والی عالمی سازشوں سے آگاہ کرتا چلاآرہا ہوں اور امریکہ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں پر بھی میری جانب سے واضح بیان آیا ہے کہ موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے قوم کو اعتماد میں لیا جائے ۔وقت کا تقاضا ہے کہ اس نازک صورتحال میں سیاست کرنے کے بجائے ملک کی سلامتی ، بقاء اور مفاد کیلئے تمام سیاسی جماعتیں متفقہ لائحہ عمل اختیارکریں ۔ الطاف حسین نے وزیراعظم سے کہاکہ میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایم کیوایم کے تمام ذمہ داران اور کارکنان قومی سلامتی وبقاء اور پاکستان کی خودمختاری کیلئے حکومت کی پالیسی اور مسلح افواج کی حکمت عملی کے ساتھ ہیں اور ان کے شانہ بشانہ چلیں گے ۔