26 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 9:2
امریکا صبر نہ آزمائے اور الزام لگانا بند کرے، حنا ربانی کھر
جنگ نیوز -
کراچی…وزیر خارجہ حناربانی کھر نے کہا ہے کہ امریکا ہمارے صبر کو زیادہ نہ آزمائے اور پاکستان پر الزام تراشی بندکرے۔ایک عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے حناربانی کھرنے کہا کہ ہمیں اب تک کسی قسم کے شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔ اگر امریکا رابطوں کی بات کر رہا ہے تو مجھے یقین ہے کہ سی آئی اے کے بھی دنیا بھر میں کئی دہشت گرد تنظیموں سے روابط ہیں مگر یہ انٹیلی جنس رابطے ہوتے ہیں۔امریکا آج جس حقانی نیٹ ورک سے پاکستان کے رابطوں کی بات کررہا ہے یہ برسوں تک سی آئی اے کی آنکھوں کا تارا تھی بلکہ خود سی آئی اے نے اس گروپ کو تخلیق کیا تھا۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ ہمارے صبرکا اتنا امتحان نہ لیا جائے کہ ہماری برداشت کی حد ختم ہوجائے۔ ہمیں زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ ہم نے بار ہا کہا ہے کہ ڈرون حملے ہماری خود مختاری کے خلاف ہی نہیں ہیں بلکہ یہ ردعمل بھی پیدا کرتے ہیں۔ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان لوگوں آپ سے دور کردیتے ہیں جن کو آپ اپنا دوست بنانا چاہتے ہیں۔ صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کی حکومت نے اس جنگ کو اپنی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے پاکستان کے عوام کو اعتماد میں لینے کا شاندار کام کیا ہے،مگر لگتا ہے کہ امریکا اپنے راستے سے ہٹ کر ان لوگوں کو دور کررہا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہشراکت دار اور اتحادی آپس میں عوام کے ذریعے بات چیت نہیں کرتے۔ اس معاملے پر اہم نے امریکا سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ اگریہ صورت حال جاری رہی تو پاکستان یہ سمجھے گا کہ یہ امریکا کا پالیسی فیصلہ ہے۔ پھر ہم اس معاملے پر اپنی پالیسی پر عمل کریں گے۔ ہم نے بار ہا کہا ہے کہاہم امریکا کے پارٹنر بننا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، لیکن اگر امریکہ قربانی کے بکرے ڈھونڈ رہا ہے تو الزامات کی سیاست سے کوئی مدد نہیں ملے گی۔ میں امید کرتی ہوں کہ پاک امریکا تعاون کو ایک اور موقع دیا جائے گا اور دروازے کھلے رکھے جائیں گے، کیونکہ اس طرح کے بیانات دروازے بند کرنے مترادف ہیں۔