26 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 18:39
حقانی نیٹ ورک کے پاکستان میں خاتمے کی اطلاعات نہیں،ایساف
جنگ نیوز -
کابل…افغانستان میں اتحادی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حقانی کے دعوے کے باوجود ہمارے پاس کوئی ایسی مستند معلومات نہیں کہ جس سے پتا چلا کہ حقانی نیٹ ورک نے پاکستان میں اپنی محفو ظ پنا ہ گاہیں ختم کردیں ہیں۔ترجمان ایساف بریگیڈئر جنرل کارسٹن جیکسن کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک بدستور سرحد پار سے اپنے آپریشنز کے منصوبے بناکر اس پر عمل کررہا ہے جبکہ کچھ دن قبل سراج حقانی نے غیر ملکی نیوز ایجنسی سیٹلائٹ فون پر گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں ہیں اور وہیں سے حملے کرتے ہیں۔اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ ماہ اگست میں پاکستانی سرحدکے پاس پکتیااور خوست میں حقانی گروپ کے کئی مزاحمت کار گرفتار یا ہلا ک کئے گئے جس میں پکتیا صوبے میں حقانی نیٹ ورک کا نمبر دو بھی شامل ہے۔ اس سے قبل گذشتہ ہفتے نیٹو فوج کے افغانستان میں کمانڈر جنرل جون ایلن نے بھی پاکستان کے سرحدی علاقوں کے قریب مشرقی افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ اپنے دورے کے دوران جنرل جون ایلن نے ہتھیاروں سے متعلق بریفنگ حاصل کی تھی اور ساتھ ہی آسانی سے منتقل ہوجانے والے بھاری توپ خانے کا بھی معائنہ کیا تھا۔ اس مو قع پر جنرل ایلن کا کہنا تھا کہ یہ توپ خانہ انتہائی متاثر کن ہے جو ہر موسم میں دن اور رات بغیر کسی وارننگ کے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو فوج افغانستان کے امن پسند شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہر قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔