27 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 9:23
پاکستان امریکا تناوٴ دور کرنے کے لئے سفارتی کوششیں تیز
جنگ نیوز -
اسلام آباد… پاکستان اور امریکا کے درمیان حقانی نیٹ ورک کے معاملے پر تناوٴ دور کرنے کے لئے سفارتی کوششیں تیز کردی گئی ہیں جس سے تنازع کے حل کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ افغان جنگ شروع ہونے کے بعدامریکا اور اْس کے صف اول کے اتحادی پاکستان کے درمیان مختلف معاملات پر چھوٹے موٹے تنازعات پیدا ہوتے رہے ، جو فریقین کی باہمی کوششوں سے دور کرلئے گئے۔ لیکن جمعرات کو امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے پاکستان پر جو الزامات لگائے انہوں نے ایسا بحران کھڑا کردیا جو افغان جنگ شروع ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں سب سے بڑا تنازع ہے۔ اس تنازع نے پوری دنیا کو پریشان کردیا۔ فریقین کی طرف سے ابتداء میں میڈیا پر بیان بازی کے بعد مسئلہ حل کرنے کے لئے سفارت کاری کا ڈول ڈالا گیا اور گذرتے وقت کے ساتھ یہ کوششیں تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں امریکا کے خصوصی نمائندے مارک گراس مین نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی سے فون پر گفت گو کی۔ مارک گراس مین کا کہنا تھا کہ پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی کو حاوی نہیں ہونے دیا جائے گا۔ دونوں ملک اگر حقانی نیٹ ورک کے مسئلے پر اختلاف رکھتے ہیں تو دیگر امور پر اْن میں اتفاق بھی پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر سے دفتر خارجہ میں ملاقات کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں پاک امریکا کشیدگی کم کرنے پر بات چیت کی گئی۔ امریکا نے پاکستان کے سچے دوست چین سے بھی تعاون کی درخواست کی ہے۔ نیویارک میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر چینی ہم منصب یانگ جائی چی سے ملاقات کی۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق ملاقات میں ہیلری کلنٹن نے یہ بھی کہاکہ اوباما انتظامیہ پاکستان کے معاملے پرچین سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس درخواست پر چینی وزیر خارجہ نے کیا جواب دیا۔ اس دوران چینی نائب وزیر اعظم مینگ جیان ژو Meng Jianzhu بھی پاکستان پہنچے اور دونوں ملکوں کے درمیان اٹوٹ دوستی کا عزم دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے مل کر کام کریں گے۔ دوسری جانب سینیٹ کی خارجہ امورکمیٹی کے چیئرمین سلیم سیف اللہ اور دیگرحکام نے اسلام آباد میں تعینات مختلف ممالک کے سفارت کاروں سے ملاقاتیں کیں۔انہوں نے امریکی الزامات اورمطالبات پر پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا اور سفارت کاروں سے درخواست کی کہ انہیں امریکا کو یہ سمجھانا چاہئے کہ پاکستان بہت زیادہ قربانیاں دے چکا ہے۔ ابتداء میں حقانی نیٹ ورک کے مسئلے پر امریکا اور پاکستان کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف تند و تیز بیانات آئے لیکن اب ایسا نظرآرہا ہے کہ جیت پھر سفارت کاری کی ہوگی۔