27 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 17:18
کراچی بد امنی از خود نوٹس ، سیکریٹری قانون ،خزانہ پیش ہوئے
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے حکم دیاہے کہ سالانہ بجٹ عدالت کی ضروریات کے مطابق بنایاجائے،انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کوکمپیوٹر اور دیگراخراجات کیلئے جتنی ماہانہ رقم دی جاتی ہے،اس میں توکاغذ بھی نہیں آتا۔کراچی بدامنی ازخودنوٹس میں عبوری حکم کی سماعت کے دوران چیف سیکریٹری ، سیکریٹری قانون اورسیکریٹری خزانہ عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس انورظہیرجمالی نے استفسارکیا کہ ایڈہاک ازم پر تقرریاں کیوں کی جاتی ہیں،جبکہ مستقل اسامیاں خالی ہیں۔سیکریٹری قانون غلام نبی شاہ نے عدالت میں کنٹریکٹ پر رکھے گئے21پبلک پراسیکیوٹرز کوہٹانے کا نوٹیفکیشن پیش کیا۔پراسیکیوٹر جنرل سندھ شہادت اعوان نے عدالت میں بیان دیا کہ پراسیکیوٹرزکی92اسامیاں خالی ہیں۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے استفسار کیا کہ یہ اسامیاں کیوں خالی ہیں تقرر کیوں نہیں کیاگیا،سپریم کورٹ کی مداخلت کے بغیرآپ یہ سب خودکیوں نہیں کرتے؟۔جسٹس سرمدجلال عثمانی نے ریمارکس دیئے کہ مستقل اسامیوں پرایڈہاک تقرریاں کرنے کا مطلب کسی کو فائدہ پہنچاناہے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو حکم دیا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی جگہ اور ججوں کی رہائش اور سیکیورٹی سمیت دفتر کے مالی معاملات سے متعلق تفصیلی تحریری رپورٹ 29 ستمبرکوپیش کریں اور سماعت ملتوی کردی۔