27 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 19:40
پاکستان سنگین خطرات میں ہے ، ہوشمندی،سے مسائل کاحل نکالاجائے، الطاف حسین
جنگ نیوز -
لندن…متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان اس وقت ا نتہائی نازک اورمشکل حالات اورسنگین خطرات میں گھراہواہے لہٰذا ہمیں جذباتی طرزعمل اختیارکرنے کے بجائے ہوشمندی اورتدبرکے ذریعے مسائل کاحل نکالنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو ایم کیوایم کے مرکزنائن زیرو پر ایک اہم تنظیمی اجلاس سے ٹیلیفون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں اراکین رابطہ کمیٹی، حق پرست سینیٹرز،ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اورتمام تنظیمی شعبہ جات کے ارکان شریک تھے۔اجلاس میں پاک امریکہ تعلقات میں پائی جانے والی حالیہ کشیدگی ، حکومت کی جانب سے بلائی جانے والی آل پارٹیزکانفرنس اورملک کی موجودہ صورتحال کے بارے میں غوروخوص کیاگیا۔اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہاکہ اس وقت پاکستان کا ایک صوبہ سیلاب میں گھراہواہے تو دوسرا صوبہ ڈینگی وائرس میں مبتلاہے،تیسراصوبہ شورش زدہ ہے جبکہ چوتھاصوبہ بم دھماکوں،ڈرون حملوں اورانتہا پسند عناصر کے غلبے میں ہے ۔ ایسی صورتحال میں امریکی حکومت ،امریکی مسلح افواج کے سربراہان اورکانگریس نے پاکستان پرالزامات اور دھمکیوں کی یلغارشروع کررکھی ہے جونہایت افسوسناک ہی نہیں بلکہ قابل مذمت بھی ہے ۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج اورعوام نے جوبیش بہاقربانیاں دی ہیں ان سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔ الطاف حسین نے کہاکہ اس وقت ملک و قوم کواتحادویکجہتی کی اشد ضرورت ہے ۔ یہ نازک وقت اس بات کاتقاضہ کرتاہے کہ سیاسی ونظریاتی اختلافات کوایک طرف رکھ کرملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے اتحاد کامظاہرہ کیاجائے ۔ الطاف حسین نے کہاکہ حقیقت پسندی کاتقاضہ یہ ہے کہ جنگ کاراستہ اختیارکرنے اورجذباتی طرزعمل اختیارکرنے کے بجائے زمینی حقائق کوتسلیم کیا جائے اور ہوشمندی،فہم وفراست اورتدبرکے ذریعے مسائل کاحل نکالاجائے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی بقاء وسلامتی اوردرپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے حکومت پاکستان، مسلح افواج اوردفاعی ادارے جوبھی متفقہ لائحہ عمل تیارکریں گے ہم اس میں ان کے شانہ بشانہ ہوں گے۔