28 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 8:51
پاکستان سے پہلے کی طرح پارٹنر شپ بحال ہونا مشکل ہوگا،مولن
جنگ نیوز -
واشنگٹن…امریکی فوج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ ایڈمرل مائک مولن نے کہا ہے کہ میں طویل عرصے سے پاکستان کے ساتھ جس پارٹنر شپ کا حامی رہا ہوں اسے کا بحال ہونا مشکل ہوگا،امریکی حکام اب پاکستان سے عسکری گروپوں کے خلاف سخت موقف اپنانے کا مطالبہ کرنے جارہے ہیں۔ایک امریکی اخبار سے انٹرویو میں ایڈمرل مائک مولن نے کہا کہ کابل کے ہوٹل پر حملہ میں ہمارے 77فوجی زخمی ہوئے،ہمارے سفارت خانے پر حملہ کیا گیا۔ان حملوں اور اس طرح کے حملوں کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے اور اسے آئی ایس آئی کا طول مدت سے اسٹریٹیجک تعاون حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اکیلا نہیں جسے یہ یقین ہے کہ پاک فوج یا آئی ایس آئی کا حقانی نیٹ ورک پر مکمل کنٹرول ہو ،لیکن یہ واضح ہے کہ پاکستان طویل مدت سے حقانی نیٹ ورک کی مدد کررہا ہے۔ایڈ مرل مولن نے کہا کہ حملوں میں شدت آگئی ہے ہم لوگوں کو کھو رہے ہیں ،میں پاکستان کا بہترین دوست رہا ہوں ،میں اس موقع پر کیا کہوں کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان خطے کے اہم ممالک ہیں اور میں نے ہر مرتبہ وہاں جاکر بہت کچھ سیکھا ہے،میں نے خطے کے بہتر مستقبل اور بہتر تعلقات کے لئے بہت محنت کی ہے۔ایڈ مرل مولن کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ افغانستان اور پاکستان طویل مدتی اسٹریٹجک پارٹنر شپ یا یا تعلقات رکھ سکتے ہیں اور یقینی طور یہ انتہائی اہم ہے۔