29 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 11:3
نیٹو کے کمرشل کنٹینرز بھی غائب ہوئے، ایف بی آر
جنگ نیوز -
اسلام آباد…ایف بی آر حکام نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کو بتایا ہے کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت آنے والے نیٹو کنٹینرز کے بعد کمرشل کنٹینرز بھی غائب ہوئے۔حکام کے مطابق کمرشل کنٹینرز غائب ہونے سے ریوینیو کو 55 ارب روپے کا نقصان ہوا۔اسلام آباد میں خرم دستگیر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جنوری 2007 سے دسمبر 2010 تک 28 ہزار 900 کمرشل کنٹینرز غائب ہوئے، جس سے ریوینیو کو 55 ارب روپے کا نقصان پہنچا جبکہ اس دوران نیٹو کے 52 ہزار میں سے 19 ہزار کنٹینر غائب ہوئے۔ کمیٹی نے ایف بی آر حکام سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کمرشل کنٹینرز سے تو ریوینیو کا نقصان ہوا لیکن نیٹو کنٹینرز کا اسلحہ اور بارود کہاں گیا، کمیٹی کا کہنا تھا کہ کنٹینرز کا معاملہ خطرناک صورتحال اختیار کر گیا ہے، بتایا جائے کہ امریکہ اسلحہ غائب کرانے میں براہ راست ملوث ہے یا اس کے ایجنٹ پاکستان میں ہیں،امریکہ دھمکیاں دے رہا ہے تو نیٹو کی سپلائی لائن کاٹ دینی چاہئے ۔ ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ کنٹینرز غائب ہونے کی ایف آئی آر،، این ایل سی، کلیرنگ ایجنٹس اور دیگر متعلقہ حکام کے خلاف پہلے ہی درج ہو چکی ہے۔