30 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 11:53
مولن نے پاکستان کے خلاف مبالغہ آمیزی سے کام لیا، اکنامسٹ
جنگ نیوز -
کراچی…رفیق مانگٹ…برطانوی جریدے ’اکنامسٹ‘ نے کہا ہے کہ ایڈمرل مولن ریٹائر ہونے جارہے ہیں اس لیے انہوں نے پاکستان کے خلاف کچھ زیادہ ہی مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے۔’اکانومسٹ‘ کے یکم اکتوبر کے شمارے میں شامل ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی پاکستانی فوج کو متاثر کرنے کی صلاحیتیں محدود ہوگئی ہیں، بھارت، روس اور ایران افغانستان میں اپنے من پسند لوگوں کی طرف پیسہ پھینک رہے ہیں جبکہ پاکستان کے پاس ان پر بہانے کیلئے پیسہ نہیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق پاکستانی فوج کے جہادیوں کے ساتھ پیچیدہ تعلقات ہیں، شمالی وزیرستان میں ڈرون طیاروں سے میزائل حملوں میں اضافے کا امکان ہے، یہ ڈرونز حملے کسی اور گروپ کی بجائے حقانی گروپ کے خلاف کیے جائیں گے، اب شاید پاکستان حقانی نیٹ ورک کے متعلق زیادہ معلومات فراہم نہیں کرے گا۔ اسلام آباد میں ایک تقریب میں ریٹائرڈ سینئر پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے جریدے کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس افغانستان میں جہادی حزب اختلاف کی حمایت کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ امریکاکے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مائیک مولن نے اعلان کیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)کا ایک "سچا بازو" ہے دیگر امریکی حکام کا ایک گروہ جو حال ہی میں افغانستان میں مغربی اہداف پر حملوں سے سخت غصے میں تھا، انہوں نے پاکستان پر زبانی حملے شروع کردیے۔ایڈمرل مولن جانے والے ہیں اس لیے انہوں نے کچھ زیادہ ہی مبالغہ آمیزی سے کام لیا۔ سب سے ا ہم بات یہ کہ امریکا کی پاکستانی فوج کو متاثر کرنے کی صلاحیتوں کو محدود ہوگئی ہیں۔ ایڈمرل مولن کے بیانات سے صرف پاک امریکا تعلقات خراب ہونے کا امکان ہے اور ان سے عام پاکستانیوں میں امریکا مخالف جذبات کو مزید آگ دیں گے۔جریدے کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میں حقانی نیٹ ورک کی بنیاد ہے۔ پاکستان شدید غصے میں ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔پاکستان کا موقف ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کی حمایت نہیں کرتا ،وہ پاکستا ن میں نہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ اس گروپ کے بانی جلال الدین حقانی ایک کامیاب گوریلا کمانڈر تھے۔ سی آئی اے نے افغانستان پر سوویت یونین کے حملے میں ان کی مجاہدانہ خدمات امریکا کی طرف سے خراج تحسین پیش کیا تھا۔ حقانی اور طالبان کے آپریشن ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں۔وہ اپنے طور پر مختلف کارروائیاں کرتے ہیں پہلے انہوں نے مشرقی اوراب جنوبی افغانستان پر توجہ مرکوز کی ہے۔ جریدے کے مطابق حقانی نیٹ ورک طالبان کی اس قیادت کو تسلیم کرتے جو کوئٹہ میں ہے اوروہ ان سے رہنمائی لیتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امریکا نے ا بھی تک حقانی نیٹ ورک کودہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا۔