1 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 9:53
اسامہ کی بیوہ کو چھڑانے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا،برطانوی اخبار
جنگ نیوز -
کراچی …رفیق مانگٹ…طالبان کی طرف سے اسامہ بن لادن کی سب سے چھوٹی بیوہ امل کو سیکیورٹی حکام کی حراست سے چھڑانے کے منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔برطانوی اخبار’دی سن‘ کے مطابق طالبان کے سربراہ ملا عمر نے500 عسکریت پسندوں کو حکم دیا تھا کہ پاکستان میں اس محفوظ جگہ پر حملہ کریں جہاں اسامہ کی سب سے چھوٹی بیوی امل عبدل فاتح کو دیگر دو بیویوں کے ساتھ حراست میں ہے اور ان سے سیکیورٹی حکام تفتیش کر رہے ہیں۔ اسامہ بن لادن کی سب سے کم عمر بیوہ کو حراست سے چھڑانے کی طالبان کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا،اس بات کا انکشاف گزشتہ رات ہوا۔اخبار نے الزام عائد کیا ہے کہ اسامہ کی بیوہ کو رکھنے جانے والی جگہ کی اطلاع پاکستان کی ا نٹیلی جنس سروس( آئی ایس آئی) کے ایک مخبر کی طرف سے لیک کی گئی،لیکن اس حملے کو اس وقت منسوخ کر دیا جب ان تینو ں کے ساتھ ساتھ اسامہ بن لادن کے پانچ سے زیادہ بچوں کو اس حملے کی اطلاع پر کسی نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا گیا۔ آئی ایس آئی کے ایک ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ کئی ہفتوں تک ہم فون کالوں کو پکڑتے رہے تھے اور قبائلی علاقوں سے بھی ہمارے ذرائع نے خبردار کردیا تھا کہ حملہ ہونے جا رہا ہے۔ اب ہمیں اسامہ بن لادن کے خاندان کی سیکیورٹی کے سخت احکامات ہیں۔تشویش اس حد تک بڑھ گئی کہ ہمیں ایک ہفتے میں تین بار ان کومختلف جگہوں پر منتقل کرنا پڑا۔گزشتہ رات اسامہ کے خاندان کو اسلام آباد کے ایک انتہائی محفوظ کمپاوٴنڈ میں انتہائی سیکیورٹی میں رکھا گیا۔29سالہ امل مئی میں اسامہ بن لادن پر حملے کے دوران اسامہ کے سامنے آنے پر امریکی فوج کے ہاتھوں شدید زخمی ہوگئی تھی۔پاکستانی حکام کے مطابق اس نے سیکیورٹی حکام سے تعاون سے انکار کردیا ہے۔یمنی نژاد امل کی اسامہ سے دس برس کی بیٹی ہے۔حکام اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر اس کو رہا کردیا گیاتو مستقبل میں القاعدہ کی نئی رہنما ہو سکتی ہے۔ آئی ایس آئی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ امل فخرسے دعویٰ کہ ہے کہ اسے بندوقیں حتیٰ کہ راکٹ لانچر استعمال کر نا آتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ کافروں کے خلاف جنگ کی قیادت اوراپنے بچوں کو مجاہدین کے طور پر تربیت دینا چاہتی ہے۔