3 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 10:17
لاہور ہائیکورٹ نے ایل پی جی پالیسی معطل کردی
جنگ نیوز -
لاہور …لاہور ہائی کورٹ نے مختلف ایل پی جی کمپنیوں کی درخواست پر وفاقی حکومت کی ایل پی جی پالیسی 2011 ء کو معطل کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور اوگرا سے 5 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا۔ایل پی جی کمپنیوں نے حکومت کی طرف سے ایل پی جی کی بیرون ملک سے جبری درآمد پر پیٹرولیم لیوی ٹیکس عائد کرنے اور ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرنے والی 87 ایل پی جی کمپنیوں کو حقوق نہ دینے کے خلاف عدالت سے رجوع کی تھا ۔کمپنیوں کی طرف سے شاہد حامد ایڈوکیٹ پیش ہوئے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے مخصوص مفادات کے لئے صرف پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کو ایل پی جی کی مارکیٹنگ رائٹس دیئے ہے،جس سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے سرمایہ کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے جبکہ ان کمپنیوں کو اس بات پر مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ دوسرے ممالک سے 20 فیصد ایل پی جی درآمد کریں اور اس پر حکومت کو پیٹرولیم لیوی ٹیکس ادا کرے عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت کی اس پالیسی کی وجہ سے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور اس سے براہ راست عام شہری متاثر ہوگا عدالت نے سماعت کے بعد ایل پی جی پالیسی 2011 کو معطل کرتے ہوئے حکومت اور اوگرا سے 5 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا ۔