4 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 12:18
امریکا کیپاکستان کو جنگ کی دھمکی حماقت کی انتہا ہے،امریکی اخبار
جنگ نیوز -
کراچی…رفیق مانگٹ…امریکی اخبار ’ہفنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق افغانستان میں امریکی سی آئی اے کے انٹیلی جنس ذرائع پاکستان کے دشمن ہیں، پاکستان کے خلاف جنگ کی امریکی دھمکی حماقت کی انتہا ہے، پاکستان کوئی کیک نہیں، پاکستانیوں کے نزدیک بھارت نہیں امریکا سب سے بڑادشمن ہے، افغانستان کی خونی اور ٹریلین ڈالر جنگ میں خطرناک غلطیوں کو امریکا کبھی تسلیم نہیں کرے گا، امریکی ہائی ٹیک فوج مٹھی بھر قبائلیوں سے شکست کھا رہی ہے، پاکستان پر کسی بھی قسم کی امریکی کارروائی چین کے ساتھ محاذ آرائی کاراستہ کھول سکتی ہے، افغانستان میں امریکی جنگ پاکستان کو غیر مستحکم کرے گی اور جوہری تصادم کے خطرات بڑھیں گے، یہ امریکی پاگل پن کی انتہا ہے کہ واشنگٹن جوہری ہتھیاروں سے مسلح پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ امریکی اخبار ’ہفنگٹن پوسٹ‘ کے مضمون کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکا کیلئے تسلیم کرنا انتہائی مشکل ہے کہ اس کی ہائی ٹیکنالوجی کی حامل افواج افغانستان میں شکست سے دوچار ہیں اور اس کی شکست پہاڑوں کے مٹھی بھر قبائلی ہیں جن کے پاس ہلکی نوعیت کے حامل ہتھیار ہیں اورجنہیں دہشت گرد سمجھ کر مسترد کیا گیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ سلطنتوں کے قبرستان(افغانستان) میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے واشنگٹن اسے کبھی بھی تسلیم نہیں کرسکتا اور نہ کبھی کرے گا کہ اس نے افغانستان کی خونی اور ٹریلین ڈالر کی جنگ میں خطرناک غلطیاں کی ہیں، اس وقت پاکستان امریکی غیض و غضب کا شکار ہے اگرچہ ابھی تک سرکاری طور پرامریکا پاکستان کو اسٹریٹجک اتحادی کہتا ہے۔ اخبار کے مطابق گزشتہ ہفتے سبکدوش ہونے والے امریکی جوائنٹ چیفس کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن نے افغانستان میں امریکی اہداف کے خلاف حملوں کا الزام آئی ایس آئی پر لگایا۔ کابل میں امریکی سفارت خانے پر طالبان مجاہدین کی طرف سے حملے نے 1968ء کی ویت نام جنگ کے خوفناک خواب کی یادہ تازہ کردی۔ مضمون کے مطابق افغانستان کے بارے میں سی آئی اے کے انٹیلی جنس کے دو ذرائع intercepts electronicاور افغان حکومت کی انٹیلی جنس سروس ہے، امریکا مخالف جنگ جو زیادہ تر الیکٹرانک مواصلاتی نظام کو استعمال نہیں کرتے، وہ جانتے ہیں کہ آسانی سے امریکی مصنوعی سیارے، طیارے ، ڈرونز ، بحری جنگی طیارے اور زمینی اسٹیشنز ان کی گفتگوکو پکڑ سکتے ہیں، افغان حکومت کی انٹیلی جنس سروس میں تاجک کمیونسٹوں کا غلبہ ہے جنہیں پرانی سوویت یونین کی انٹیلی جنس خاد نے تشکیل دیا تھا اور یہ پاکستان اور پشتونوں کے جانی دشمن ہیں، امریکی فوج اور سویلین انٹیلی جنس کے لیے افغان ذرائع سے حاصل معلومات ڈس انفارمیشن کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہیں، انہی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایس آئی حال ہی میں افغانستان میں امریکی اہداف پر حملوں کے پیچھے تھی، امریکی انٹیلی جنس اسی طرح2003ء میں عراق میں دوستانہ انٹیلی جنس سروس کے ہاتھوں گمراہ ہوئی تھی۔ اخباری مضمون میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن نے پاکستان پر غصے کے ساتھ غیرمحتاط ردعمل کیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں سوویت یونین کے 1989ء کی شکست کی مثال تیزی سے واشنگٹن کی پریشانی کا باعث بن رہی ہے، اوباما انتظامیہ کے کسی بھی سینئر رکن کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کی پیچیدگی کا علم نہیں، واشنگٹن میں کچھ ماہرین ان تعلقات کی اہمیت سے واقف ہیں لیکن وہ عادت کے مطابق انہیں نظر انداز کر رہے ہیں، ایسا طرز عمل عراق کے ساتھ بھی کیا گیا۔ اخبار کے مطابق 18کروڑ عوام اور سخت فوج کے حامل ملک پاکستان کے خلاف جنگ کی دھمکی حماقت کی انتہا ہے، ویت نام کے بعد امریکی فوج نے کسی بھی سخت زمینی طاقت کا سامنا نہیں کیا، پاکستان کیک کی طرح نہیں اور نہ ہی یہ آسان ثابت ہوگا، پاکستان افغانستان میں امریکا اور اتحادی افواج کیلئے رسد کا اہم راستہ ہے، زیادہ تر پاکستانی اب بھارت کی بجائے امریکا کوا پنا سب سے بڑادشمن سمجھتے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ یہ بھی پاگل پن کی انتہا ہے کہ واشنگٹن جوہری ہتھیاروں سے مسلح پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے جوچین کا ایک بہت قریبی اتحادی ہے، چین خود بھی ایک اہم جوہری طاقت ہے، اب تک بیجنگ محتاط طریقے سے پاکستان کے ساتھ حمایت کر رہا ہے، لیکن سی آئی اے کے پاکستان پر ڈرونز حملوں سے آگے پاکستان پر کسی بھی قسم کی امریکی کارروائی چین کے ساتھ محاذ آرائی کا راستہ کھول سکتی ہے، چین کی خاموشی نے امریکا پر واضح کردیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کسی بھی امریکی محاذ آرائی کی اجازت نہیں دے گا، مزید پاگل پن یہ ہے کہ بش اور اوباما دونوں ہی کے دور حکومت میں امریکا افغانستان میں بھارت کی فوجی مداخلت کی کوشش چاہتا ہے لیکن بھارت افغانستان میں جنگ کیلئے اپنے فوجی کبھی نہیں بھیجے گا۔ اخبار کے مطابق واشنگٹن نے بھارت کو ہری جھنڈی دکھائی ہے کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف تاجک، ازبک اور ہزارہ اقلیتوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے انٹیلی جنس ایجنٹس اور پیسہ فراہم کرے، امریکا بے تابی سے بھارت کو جوہری ہتھیاروں کے لیے مدد فراہم کر رہا ہے، ان جوہری ہتھیاروں کے صرف دو اہداف پاکستان اور چین ہی ہیں، ان سب نے اسلام آباد میں خطرے کی گھٹنیاں بجا دی ہیں، روس اور چین بھی اس بڑھتی ہوئی بے چینی کا ڈرامہ دیکھ رہے ہیں جو اسلامی عسکریت پسندوں اور امریکی اتحادیوں کے درمیان بٹ چکا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے اسٹریٹجک مفادات اکثر متنازع ہیں اور مختلف ہیں، جب تک افغانستان میں امریکا کی جنگ جاری رہتی ہے تو یہ یقیناً پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا خطرہ رہے گا اور جوہری تصادم کے خطرات بھی مزید بڑھ سکتے ہیں۔