4 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 12:18
پاکستان میں لاپتہ افراد کی وجہ فوجی گرفت ،غیر موثر نظام انصاف ہے،امریکی اخبار
جنگ نیوز -
کراچی…فارن ڈیسک… پاکستان میں گزشتہ دہائی سے لوگوں کے غائب ہونے کے واقعات میں ہزاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق پاکستان میں غائب ہونے کے واقعات ایک حقیقت ہیں جن کی بڑی وجہ پاکستانی معاشرے پر فوجی گرفت کا مضبوط ہونا،سویلین حکومت کی کمزوری اور غیر موثر جسٹس نظام ہے۔پاکستانی اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق گزشتہ دہائی سے ہزاروں افراد اغوا کیے گئے ،انہیں حراست میں لے کر ایسی خفیہ جیلوں میں رکھا گیا جن سے رابطہ نا ممکن تھا۔ان حراست میں لیے گئے کچھ افرادکو ہلاک کردیاگیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اغوا کیے جانے والے افراد کی صحیح تعداد کا علم نہیں اس لیے کہ بہت سے لوگ ان اغوا کاروں کے خوف سے رپورٹ درج نہیں کراتے۔زیادہ تر افراد کو غائب کرنے میں اسلامی عسکریت پسندوں یا علیحدگی پسند تحریکوں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔پاکستان میں غائب ہونا ایک حقیقت ہے۔اخبار کے مطابق اس کی وجہ پاکستانی معاشرے پر فوجی گرفت فوجی کا مضبوط ہونا،غیر فعال جسٹس نظام اور کمزور سویلین حکومت ہے جو اس بڑھتے ہوئے مسائل کو روکنے میں ناکام ہے۔سرکاری کمیشن نے کئی درجن لاپتہ افراد کا پتہ لگایا ہے اور عوامی سطح پر کہا کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس میں ملوث ہیں۔ لیکن کسی کو کوئی جواب دہ نہیں ٹھہرایا ۔اخبار کے مطابق فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے لاپتہ افراد میں فوجی کردار کی سختی سے تردید کی۔ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لاپتہ افراد کراچی ، دبئی ، یا افغانستان میں چھپے ہیں، یا عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑائی کر رہے ہیں۔ اخبار نے نجی پاکستانی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے کئی مشتبہ افراد کو حراست میں رکھا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ملک کی پولیس کی کارر کردگی ناقص ہے اور دوسری صورت میں عدالتیں ان کی رہا کر دیں گی۔