4 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 19:34
کوئٹہ میں دہشتگردی: جاں بحق 14افراد سپردخاک
جنگ نیوز -
کوئٹہ...کوئٹہ میں دہشت گردی کے ایک اور واقعے میں مزید14افراد جاں بحق اورچھ زخمی ہوگئے۔بعد میں جاں بحق ہونیوالوں کو آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپردخاک کردیا گیا ۔آج صبح کوئٹہ کے نواحی علاقے اخترآبادمیں منی بس میں گھس کر فائرنگ کا واقعہ گذشتہ دو ہفتے کے دوران ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا تیسرا بڑا واقعہ تھا ۔ان واقعات میں کل سنتالیس افراد کی زندگیوں کے چراغ گل کردئیے ہیں آج کے دلخراش واقعہ میں چودہ افرادجان کی بازی ہارے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تقریباً پچیس مزدور اور سبزی فروش صبح سویرے سبزی لینے ہزار گنجی جارہے تھے۔ اختر آباد کے علاقے میں پک اپ گاڑی میں سوارتین دہشت گردوں نے ان کی منی بس روکی اور دو دہشت گردوں نے گاڑی میں گھس کر اندھادھند فائرنگ کردی۔ مرنے اور زخمی ہونیوالوں میں زیادہ تر کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا ، تاہم ان میں کچھ مقامی پشتون بھی شامل تھے،حملہ آور واردات کے بعد باآسانی فرار ہوگئے۔واقعے کے بعد گرلز کالج کی طالبات سمیت مشتعل افراد ہزارہ ٹاون ، بائی پاس، بروری روڈ، گلستان روڈ، میزان چوک سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا اورسڑکیں بلاک کردیں۔ مظاہرین نے حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کی اسی دوران مشتعل افراد نے بی ایم سی کے احاطے میں کھڑی اْس منی بس کو بھی آگ لگادی جس میں فائرنگ کی گئی تھی۔ دہشت گردی کے اس واقعے کی ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی ، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی ، شیعہ علماء کونسل سمیت مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے شدید مذمت کی ، شیعہ علماء کونسل نے تین دن کے سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔ صوبائی حکومت نے بھی سانحہ اخترآباد کی بھرپورمذمت کی جبکہ وزیراعلیٰ نے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی۔ واقعہ کے بعد منی بس کی حفاظت میں ناکامی پر ایس ایچ او شالکوٹ کو معطل کردیا گیا جبکہ ایف سی اور پولیس کے سرچ آپریشن کے دوران بعض مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے ۔ سانحہ اخترآباد اور ٹارگٹ کلنگ کے دیگر پے در پے واقعات کے بعد کوئٹہ کے عوام اور بالخصوص ہزارہ برادری میں عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھ گیا ہے۔