6 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 10:58
کراچی بدامنی کیس:حکومت ذوالفقار مرزا کے الزامات پر ریفرنس بھیجے، چیف جسٹس
جنگ نیوز -
اسلام آباد… چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخارچوہدری نے امن وامان کی صورتحال پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو بتایا گیا کہ کراچی میں بھتہ خوری کے واقعات میں پیپلز پارٹی، اے این پی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، سنی تحریک اور دیگر کالعدم جماعتیں ملوث ہے، کوئی سیاسی جماعت اگر ملکی مفاد کے خلاف کام کر رہی ہے تو وفاقی حکومت کا کام ہے کہ ریفرنس بھیجے۔وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ ایم کیوایم پر ذوالفقار مرزا کے الزامات کے حوالے سے ریفرنس بھیجے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ فوج بلانا صوبائی حکومت کا کام ہے، سپریم کورٹ اس حوالے سے فیصلہ نہیں دے رہی۔ فیصلے میں آئی جی پولیس کی رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا کہ 306افرادکوقتل کیاگیا۔چیف جسٹس افتخارچوہدری نے کہاہے کہ کراچی کاامن شرپسندوں نے تباہ کیا۔ لینڈوڈرگ مافیااوربھتاخوری معمول بن گئی ہے۔ میڈیاکے مطابق سرمایہ ملائیشیامنتقل ہورہاہے۔چیف جسٹس میڈیارپورٹس کے مطابقکراچی میں مختلف گروپ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔ میڈیارپورٹس میں کہاگیاکہ کراچی کے شہریوں کوتحفظ حاصل نہیں ہے۔اس وقت کی حکومت نے تمام ترواقعات کاذمہ دارایم کیوایم کوٹھہرایاتھا۔کراچی میں گزشتہ کئی ماہ سے خراب صورتحال ایک بارپھرپیداہوئی ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے الزامات پراس وقت حکومت نے تردیدکی تھی،سماعت نہ ہوسکی انہوں نے بتایاکہ اکتوبر99کوپیروی نہ ہونے پریہ درخواست مستردکی گئی تھی۔چیف جسٹس نے کہاکہ آرٹیکل5پرعمل کرناہرشہری کافرض ہے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اوربھتہ خوری روزکامعمول بن گئی ہے۔انہو ں نے کہاکہ90کے دوران مختلف واقعات ہوئے جن کے دوران کرفیوبھی نافذرہا۔چیف جسٹس نے کہاکہ امن وامان اورمعاشی ترقی ایک دوسرے کیلیے لازم ملزوم ہیں۔ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، اسلام امن کامذہب ہے،قتل وغارت سے منع کرتاہے،جوایمان والے کوجان بوجھ کرقتل کرتاہے اس کیلیے سنگین سزاہے،قرآنی تعلیمات آئین پاکستان کاحصہ ہیں،افتخار گیلانی نے اجمل پہاڑی ، کامران مادھوری کے خلاف آئی ایس آئی کی رپورٹ پیش کی، ڈی جی رینجرز نے بتایا کہ کراچی ، لسانی، مذہبی اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہے اور روزانہ ایک کروڑ روپے بھتہ وصول کیا جارہا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق کراچی میں مختلف گروہوں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں، پشتونوں، اردو بولنے والوں، پنجابیوں اور سندھیوں کی پچاس سے زائد سربریدہ لاشیں ملی ہیں۔