تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
7 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 9:9

اوباما کی تقریر ملن کے الزامات کی بازگشت تھی، وال اسٹریٹ جنرل

جنگ نیوز -


کراچی…رفیق مانگٹ…امریکی اخبار’وال اسٹریٹ کے مطابق ملن نے ریٹائر ہونے سے قبل پاکستان کے خلاف بیان کو اوباماانتظامیہ اب تک مبالغہ آرائی کہتی رہی ہے تاہم اوباما نے جمعرات کو حقانی یا ملن کانام لیے بغیرپاکستانی فوج اور انٹیلی جنس کے عسکریت پسندوں کے انہیں تعلقات کو دہرایا ہے اور کہا کہ یہ صورت حال ہمارے لیے تشویش کا باعث ہیں۔مئی میں اسامہ کی ہلاکت کے بعدپاک امریکاتعلقات کشیدگی کی ہی طرف جا رہے ہیں،امریکا حقانی نیٹ ورک کو اپنے لئے باعث تشویش سمجھتا ہے۔اخبار کے مطابق جمعرات کو وائٹ ہاوٴس نیوز کانفرنس میں اوباما نے عوامی سطح پر اُس کشیدگی کو بیان کردیا۔ اِس سے قبل صرف نجی یانام نہ ظاہر نہ کرنے پر امریکی انتظامیہ یہ کہتی رہی تھی کہ اسلام آباد اور واشنگٹن مختلف اسٹریٹجک نظریئے رکھتے ہیں خاص طور پر افغانستان کے معاملے پر ، جس میں پاکستان اسلامی عسکریت پسند گروپوں کی طرف دیکھتا ہے۔اخبار مزید لکھتا ہے کہ امریکی صدر اوباما نے پاکستان پر مزید دباوٴ بڑھا دیا، جس کے بعدپاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات خطرناک صورت حال اختیار کر سکتے ہیں،اسلام آباد اسلامی عسکریت پسندوں کے ساتھ متضاد رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔واشنگٹن اور اسلام آباد مختلف اسٹریٹجک مفادات رکھتے ہیں۔پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس کے بعض افراد کے ساتھ کنکشن ہے ، القاعدہ کے خلاف جنگ میں پاکستان کا تعاون قابل تحسین ہے۔امریکی اخبار’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے پاکستان کے خلاف ایک نیا دباوٴ بڑھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسلامی عسکریت پسند گروپوں کی حمایت کرنے سے پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات خطرناک صورت حال اختیار کر سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے نقطہ نظرسے دونوں ممالک کے پیچیدہ تعلقات کی تاریخ کی سب سے زیادہ تفصیلی وضاحت کی پیش کرتے ہوئے امریکی صدر نے القاعدہ کے خلاف جنگ میں مدد پر پاکستان کے کردار کو سراہا ہے،لیکن اُس کے ساتھ اِس مسئلے کی بھی نشاندہی کی کہ اسلام آباد دیگر انتہا پسند دھڑوں کے ساتھ بظاہر متضاد رویے رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔اخبار کے مطابق اوباما نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کی سمت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ ایک طویل المدتی اسٹریٹجک تعلقات کے ساتھ آرام دہ اور پرسکون نہیں سمجھتے۔ اس پر پاکستان کی طرف سے کسی فوری ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ ملن نے ریٹائر ہونے سے قبل پاکستان کے خلاف بیان کو اوباماانتظامیہ ابتک مبالغہ آرائی کہتی رہی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.