27 دسمبر 2011
وقت اشاعت: 18:22
حقائق سامنے لائیں گے، قوم کو مایوس نہیں کیاجائیگا،جسٹس جاوید اقبال
جنگ نیوز -
اسلام آباد…ایبٹ آباد انکوائری کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہاہے کہ تحقیقات میں چھوٹے سے چھوٹے امکان کو بھی مسترد نہیں کرسکتے،حقائق ضرور سامنے لائے جائیں گے اور قوم کو مایوس نہیں کیاجائیگا۔ایبٹ آباد کمیشن کا اجلاس اسلام آباد میں جسٹس ریٹائرڈجاوید اقبال کی زیرصدارت ہوا جس میں دفاعی تجزیہ کاروں اور سینئر صحافیوں نے اپنے پاس موجود معلومات فراہم کیں جب کہ بعض نے تحریری بیانات بھی جمع کرائے۔کمیشن کے روبرو بعض تجزیہ کاروں کی رائے تھی کہ اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے بارے میں کسی بھی سطح پر حکومت یا حکومتی اداروں کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں تاہم مخبری میں نچلی سطح پر کسی مقامی کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ذرائع کا کہناہے کہ بعض تجزیہ کاروں کا کہناتھاکہ آپریشن کے فوری بعد صدر کے غیر ملکی میڈیا میں لکھے گئے آرٹیکل اوروزیراعظم سمیت بیرون ملک سفراء کے بیانات کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایاجانا چاہیے، اس سے بہت کچھ سامنے آسکتاہے۔ذرائع کا کہناتھا کہ کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بتایاکہ کمیشن نے ابتدائی تحقیقات میں سپریم کورٹ سے پہلے ہی حسین حقانی کو طلب کرلیاتھا۔ذرائع کے مطابق بعض تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا کہ عوام میں تاثر پایاجاتاہے کہ کمیشن کارروائی کو طول دے کر وقت ضائع کررہاہے اورواقعہ کے متعلق ٹھوس معلومات نہ رکھنے والوں کو بھی طلب کیاجارہاہے۔ اس پرکمیشن نے واضح کیاکہ تحقیقات میں کسی چھوٹے سے چھوٹے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا،ہرطبقے کی رائے جانناچاہتے ہیں،کمیشن کے روبرو دفاعی تجزیہ کار بریگیڈئیر ریٹائرڈ شوکت قادر،ائرکموڈور سجاد حیدر،ماریہ سلطان،ڈاکٹر شیریں مزاری،ڈاکٹر فرخ سلیم، سابق سفیر آصف ایزدی اور سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی،نسیم زہرہ، فہد حسین،سلیم بخاری اور سلیم صافی پیش ہوئے۔