27 دسمبر 2011
وقت اشاعت: 19:22
پاک بھارت مذاکرات :توپ خانہ کنٹرول لائن سے دور رکھا جائے،پاکستان کی تجویز
جنگ نیوز -
اسلام آباد …پاکستان اور بھارت نے جوہری ہتھیاروں کے حادثات کا خطرہ کم کرنے کے معاہدے میں پانچ سال توسیع پر اتفاق کیا ہے ، جبکہ پاکستان نے بھارت کو بھاری توپ خانہ لائن آف کنٹرول سے 30 کلومیٹر پیچھے ہٹانے کی بھی تجویز دی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی ہتھیاروں اور جوہری شعبے میں اعتماد سازی کے اقدامات پر ماہرین کی سطح کے دو روزہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ امور منور سعید بھٹی اور بھارتی وفد کی قیادت جوائنٹ سیکریٹری ڈی بالا ورما نے کی۔مذاکرات کے اختتام پر دفترخارجہ کی طرف سے مشترکا اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس کے مطابق مذاکرات تعمیری اور خوشگوار ماحول میں ہوئے، دونوں ملکوں نے موجودہ اعتماد سازی کے اقدامات کا جائزہ لیا جب کہ روایتی ہتھیاروں اور جوہری شعبے میں اعتماد سازی کے لیے مزید اقدامات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ پاکستان اور بھارت کی مذاکراتی ٹیموں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق حادثات کا خطرہ کم کرنے کے معاہدے میں5 سال توسیع کے لیے اپنے اپنے خارجہ سیکرٹیریز کو سفارش کریں گی۔ ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو120ملی میٹر دہانے کی توپیں لائن آف کنٹرول سے30 کلومیٹردوررکھنے کی تجویزدی ہے، جس سے دونوں جانب جانی نقصان میں کمی ہو گی۔