28 دسمبر 2011
وقت اشاعت: 7:45
انڈونیشیا:ڈوبنے والے پاکستانیوں کی شناخت کیلئے ہنگامی ویزے جاری
جنگ نیوز -
کوئٹہ… انڈونیشیا کے علاقے جاوا میں کشتی ڈوبنے کے واقعہ میں ایک سو تین افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں تاہم لاشوں کے چہرے ناقابل شناخت ہونے کی وجہ سے پوسٹ مارٹم میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے طاہر منیر منہاس نے جیو نیوز کو بتایا کہ انڈونیشیا کے علاقے جاوا میں کشتی ڈوبنے کے واقعہ میں لاپتہ ہونے والے افراد کے کوئٹہ سے تعلق کی اطلاعات کے بعد پی ڈی ایم اے میں ایک سیل قائم کردیا گیا جہاں اب تک صرف بارہ لواحقین نے رابطہ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ڈی این اے وزارت خارجہ اور وزرات داخلہ سے مسلسل رابطہ میں ہے اور جکارتہ سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق کشتی ڈوبنے کے واقعہ میں ایک سو تین افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں تاہم لاشوں کے چہرے ناقابل شناخت ہونے کی وجہ سے یہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ ان میں کوئی پاکستانی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان افراد کے پوسٹ مارٹم میں دو ہفتے مزید لگ سکتے ہیں ۔طاہر منیر منہاس نے بتایا کہ ہم نے ان افراد کے لواحقین کو اگاہ کردیا ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کی شناخت کیلئے انڈونیشیا جانے کیلئے اپنے ہمراہ تصاویر کے ساتھ اپنے ڈی این اے ٹیسٹ اور بلڈ روپروٹس بھی ہمراہ لے جائیں۔۔اس سلسلے میں انڈونیشیا میں پاکستانی سفیر ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ انہیں مشرقی جاوا کے سمندر میں مبینہ تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کا علم ہے۔انہوں نے بتایا کہ کشتی میں 270 افراد سوار تھے جن میں سے ایک سو تین لاشیں نکالی جاچکی ہیں، پاکستانی سفیر نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ہزارہ برادری کے افراد کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والی کشتی میں انکے 60 سے 70 افراد سوار تھے اس لئے ہزارہ برادری کے افراد کو انڈونیشیاء آنے کے لئے ویزے دیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا ک ڈوبنے والوں کی شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد پاکستانیوں کے بارے میں تصدیق کی جاسکے گی۔