تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
28 دسمبر 2011
وقت اشاعت: 10:23

میمو میں لکھی باتوں کی جانچ کیلئے فارنزک شہادت درکار ہوگی، چیف جسٹس

جنگ نیوز -


اسلام آباد… عاصمہ جہانگیر نے میموکیس میں موقف اپنایا ہے کہ حسین حقانی کیخلاف کیس بنے تو کریمنل بنتاہے اور اگرالزام یہ ہے کہ حقانی نے پاکستان کی طرف سے خط لکھا تو یہ کیس صدر کے مواخذے کابنتاہے۔ چیف جسٹس افتخارچودھری نے کہاہے کہ میموکی حقیقت جاننے کیلئے فارنزک شہادت درکار ہوگی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے9 رکنی بنچ نے میموکیس کی سماعت کی تو حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیرنے دلائل جاری رکھے، انہوں نے کہاکہ کسی کابنیادی حق متاثر ہو توہی عدالت حکم دے سکتی ہے، معاملہ محض مفروضہ پرنہیں حقائق پر مبنی ہونا چاہیے،کسی کا حق برقرار رکھتے ہوئے دوسرے کا حق متاثر نہیں کیاجاناچاہیے، کیس میں درخواست گزار کی نیک نیتی کو بھی دیکھنا ہوگا، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی تب تحقیقات کرے گی جب پارلیمنٹ اسے کہے۔ صدر نے جواب داخل کیانہ ہی میموکے وجودسے انکارکیا۔ جسٹس تصدق جیلانی نے کہاکہ پہلے عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں ،اس سے تعین ہوگا کہ کن حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔ عاصمہ جہانگیر نے حسین حقانی کی طرف سے سولہ نومبرکوصدرکو اور سیکرٹری خارجہ کو بھیجے جانے والے خط کے متن پیش کیے، عاصمہ جہانگیر کا کہناتھاکہ حکومت کے پاس اس معاملے میں جوکچھ ہے عدالت میں لے آئے، سول ، ملٹری کشیدگی میں حسین حقانی کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے، جسٹس ثاقب نثار نے جب قانونی فورم کے تعین کا سوال کیا تو عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ حقانی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہیں، جسٹس تصدق جیلانی نے پوچھاکہ ملک کے اعلٰی ترین عہدے کو کیوں اس میں ملوث کیا جارہا ہے،عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ وہ انتہائی احترام سے کہتی ہیں کہ کئی کیسز میں عدالت نے طے شدہ قانون سے آگے بڑھ کر اختیار استعمال کیا،جسٹس جواد خواجہ نے کہاکہ چاہے 18 کروڑ افراد ایک طرف ہوں ، عدالت اس فرد کاہی تحفظ کرے گی جس کا حق متاثر ہوا ہو، بلیک بیری میسجنگکا ذکر آیاتو عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ منصوراعجاز نے انکے موکل کو 5 بار فون کیا، حقانی نے اسے ایک بار سرسری جواب دیا، عدالت نے کہا ہے کہ فریقین کل تک دلائل مکمل کرلیں،بعد میں سماعت ملتوی کردی گئی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.