تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
28 دسمبر 2011
وقت اشاعت: 19:18

میمو کیس: عاصمہ جہانگیر اور ججز کے درمیان دلچسپ مکالمے

جنگ نیوز -


اسلام آباد … میمو کیس کی سماعت کے دوران حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ عدالت اگر ذہن بناکربیٹھی ہے تو انہیں پٹیشن میں تعصب کا نکتہ شامل کرنا ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ انہیں یقین ہوناچاہئے کہ وہ یہاں کھلے ذہن کیساتھ بیٹھے ہیں۔ سپریم کورٹ میں میموکیس کی سماعت کے دوران حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر اور ججز کے درمیان جملوں کا تبادلہ اور تکرار ہوتی رہی۔ ایک موقع پر عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ عدالت ڈی جی آئی ایس آئی سے پوچھے کہ منصوراعجاز سے کب اور کیوں رابطے کئے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت بھی یہی بات کررہی ہے کہ تمام شہادتیں اور ریکارڈ سامنے آنا چاہئے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس آئی نے جس معاملے میں برطانوی اخبار اور صحافی کو فریق بنایا اس میں منصور اعجاز کو شامل کیوں نہیں کیا۔ ایک موقع پر عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ آپ کے ہاتھ میں قلم ہے، جو چاہیں فیصلہ کرسکتے ہیں۔ جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ ان کا قلم آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ہے، جبکہ عاصمہ جہانگیر نے معاملے کو سیاسی گردانتے ہوئے حبیب جالب کا شعر پڑھا کہ ”لاڑکانہ چلو نہ تو تھانے چلو“۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگلا مصرعہ بھی پڑھ دیں۔ عاصمہ جہانگیر نے پڑھا، ”ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا“۔ عاصمہ جہانگیر نے جب کہاکہ وہ یہ درخواست لاتیں تو 9 جج اسے نہ سن رہے ہوتے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ وہ ایسی بات نہ کریں۔ کراچی امن و امان کیس میں انہیں زیادہ سنا تھا۔ چیف جسٹس نے جب کہاکہ وہ عدالت پریقین رکھیں توعاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ یقین توانہیں اپنے خاوندپربھی ہے، لیکن اپنے حقوق انہیں نہیں دیتیں۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.