28 دسمبر 2011
وقت اشاعت: 19:23
میمومعاملے کی تحقیقات چھپ چھپ کر نہیں ہونی چاہیئے،اسفندیارولی
جنگ نیوز -
اسلام آباد…عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ صدر زرداری 27دسمبر کی تقریر میں جذباتی نہیں ہوئے، میں نے صدر کو مشورہ دیا تھا کہ آپ جذباتی نہ ہوں،کچھ میڈیا اور سیاسی لوگ ایسا چاہتے تھے۔جیونیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں میزبان حامدمیر سے خصوصی انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا کہ صدر زرداری کی جگہ مجھے صدر بنانے کے لیے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔میمو معاملے کی چھپ چھپ کر نہیں کھلم کھلا تحقیقات ہونی چاہیے اور تمام حقائق سامنے آنے چاہئیں۔میں نے صدر کو کوئی یقین دھانی نہیں کرائی،ہماری وفاداری پاکستان کے ساتھ ہے ،بہت سے لوگ آج بھی بھارت کا وفادار سمجھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں صدر زرداری کو 30،35سال سے جانتا ہوں وہ بھاگنے والے نہیں، انھیں واپس آنا ہیں اور بالاخر وہ آگئے۔صدر صاحب نے سب سے طویل قید کاٹی ہے۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ افغان جنگ کو ہم نے80 کی دھائی میں کہا تھا کہ یہ جہاد نہیں فساد ہے۔انھوں نے کہا کہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے مجھے پارٹی جلسوں میں جانے سے منع کیا ہے، میرے اپنے نام کوئی گاڑی نہیں۔دبئی کی کمپنی سے چند روز قبل دو ڈھائی لاکھ کے شیئرز خریدے ہیں،والد سے ترکے میں ملی زمینیں ہیں اسکے علاوہ اگر کوئی اثاثے بتادے تو پھانسی پر چڑھادے۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں صرف دو مرتبہ ملائیشیا ء گیا ہوں لیکن یہاں پر یار لوگوں نے اڑادیا کہ اسفندیار تو ملائیشیا میں رہائش اختیار کرگئے ہیں جوکہ سراسر بہتان ہے۔انھوں نے کہا کہ کون کس کا ووٹ بینک کاٹتا ہییہ تو الیکشن والے دن ہی پتہ چلے گا تاہم سیاست کرنا تحریک انصاف کا حق ہے۔انھوں نے کہا کہ سینٹ الیکشن میں پی پی اور جے یوآئی سے مفاہمت ہے۔عام انتخابات میں کسی جماعت سے مفاہمت کی بات قبل ازوقت ہے۔