30 دسمبر 2011
وقت اشاعت: 14:19
مثبت جواب نہ ملنے پرجاپانی سرمایہ کاری پاکستان سے بھارت منتقلی کا خدشہ
جنگ نیوز -
ٹوکیو…عرفان صدیقی…پاکستان کی جانب سے تین سال سے زائد انتظار کرائے جانے اور ڈیڑھ سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے کسی بھی طرح کے مثبت جواب نہ ملنے کے بعد جاپان کی معروف آٹو موبائل کمپنی کے نمائندے جاپانی وزیر اعظم کے ساتھ بھارت پہنچ گئے ہیں جہاں بھارتی حکومت نے ایک بار پھر کمپنی کو پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری کو جاپان منتقل کرنے پر تمام سہولتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جس کے بعد خدشہ ہے کہ ڈیڑھ سوملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری بھارت منتقل ہوجائے گی۔ اس حوالے سے منصوبے سے منسلک اہم شخصیت نے ”جنگ“ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدر آصف زرداری کی دو دفعہ سے زائد ذاتی یقین دہانی کے باوجود مذکورہ کمپنی کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تین سال تک انتظار کے بعد بھی گرین سگنل نہ دیئے جانے پر بھارتی حکام نے کمپنی کے سربراہ کو جاپانی وزیر اعظم کے ساتھ بھارت آنے کی دعوت دی جس کے بعد آٹوموبائل کمپنی کی اعلیٰ شخصیت جاپانی وزیر اعظم کے ساتھ بھارت پہنچ گئی ہے جہاں بھارتی حکام نے پاکستان کیلئے مختص ڈیڑھ سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کو بھارت منتقل کرنے پر تمام سہولتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے، جس کے بعد توقع ہے کہ20 ہزار افراد کو روزگار فراہم کرنے اور پاکستان میں پہلی بار انجن کی مینوفیکچرنگ شروع کرنے والی پیشکش اب بھار ت منتقل ہوجائے گی ۔ذرائع کے مطابق جاپانی کمپنی سے مبینہ طور پر پاکستان میں اعلیٰ سطح پر بھاری رشوت طلب کی جارہی تھی جس پر جاپانی ادارے کی جانب سے منفی جواب نے تاحال جاپانی کمپنی کی پاکستان میں سرمایہ کاری کوممکن نہیں ہونے دیا ۔