تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
30 دسمبر 2011
وقت اشاعت: 14:19

سپریم کورٹ نے میمو کیس میں دائردرخواستیں سماعت کیلئے منظور کرلیں

جنگ نیوز -


اسلام آباد…سپریم کورٹ نے میمو اسکینڈل کیس کے خلاف پٹیشنز کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیشن قائم کر دیا ہے جسے 4 ہفتوں میں کام مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بنچ نے میمو گیٹ اسکینڈل کے خلاف مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف اور پارٹی رہ نماوٴں اسحاق ڈار، خواجہ آصف سمیت دیگر پٹیشنرزکی درخواستوں کی سماعت کی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پٹیشنز قابل سماعت ہیں، عدالت نے میمو اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 4 رکنی عدالتی کمیشن قائم کر دیا ہے جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان، سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم اور اسلام آباد کے سیشن جج جسٹس جواد عباس رکن کی حیثیت سے شامل ہیں۔ عدالتی کمیشن کو 4 ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ کمیشن اسلام آبا دہائی کورٹ میں کام کرے گا۔سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی کمیشن ایڈووکیٹس اور فرانزک ماہرین کی خدمات حاصل کرسکے گا، صوبائی چیف سیکریٹریز ، برطانیہ اور کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمیشنز کو عدالتی کمیشن سے معاونت کا پابند بنایا گیا ہے ،سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن لاجسٹک سپورٹ دے گا جبکہ امریکا میں پاکستانی سفیر، داخلہ، خارجہ اور کابینہ امور کے وفاقی سیکریٹریز، ڈی جی ایف آئی اے اورتمام آئی جیز پولیس کو کمیشن کی معاونت کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق کمیشن کو بیرون ملک سے بھی تحقیقات کرانے کا اختیارہو گا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ منصور اعجاز اور حقانی کے درمیان بلیک بیری سے 89 ای میلز اور میسیجز ہوئے، عدالتی کمیشن بلیک بیری کمپنی سے میسیجز کی تصدیق کرائے گا، جب کہ حقانی عدالتی اجازت کے بغیر بیرون ملک نہیں جائیں گے عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میمو پٹیشنز کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے صدر مملکت نے کوئی جواب داخل نہیں کیا۔عدالت نے اپنے یکم دسمبر کے فیصلے کو تضحیک کا نشانہ بنانے کے خلاف بھی حکم جاری کیا ہے، عدالت نے بابراعوان اور وزراء کی تنقیدی نیوزکانفرنس کا تفصیلی تحریری متن طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقاتی عدالتی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد اس کیس کو دیکھا جائے گا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.