1 جنوری 2012
وقت اشاعت: 8:26
یونان میں پاکستانی کمیونٹی کیلئے 2011ء ناخوشگوار رہا
جنگ نیوز -
ایتھنز…یونان کی پاکستانی کمیونٹی کیلئے سال 2011ء انتہائی ناخوشگوار رہاجس میں ا ن کوبے شمار مسائل کے علاوہ جرائم کی برھتی ہوئی شرح نے بھی متاثر کیا۔سال ددہزار گیارہ یونان کی پاکستانی کمیونٹی کیلئے کسی بھی حال میں بہتر ثابت نہ ہوااوریونان کے اندورنی حالات کے علاوہ پاکستانی برادری کے اندرجرائم کی شرح جس میں اغوابرائے تاوان،غیرقانونی طورپر یونان سے دیگر یورپی ممالک جانے والے اورترکی سے یونان غیرقانونی داخل ہونیوالے افراد کی ہلاکتوں،بے روزگاری،معاشی واقتصادی بحران،مالی مشکلات،کاروباری مندی،مساجد پر حملے،توہین رسالت اورتوہین قرآن کے واقعات،متعصبانہ پرتشدد کارروائیوں،قاتل کی وارداتوں،اغوابرائے تاوان کے ان گنت واقعات اوردیگر پہلووٴں نے پاکستانیوں کوبے چین کیے رکھا ۔سال2011میں یونان میں صرف پاکستانی کمیونٹی کودرپیش مشکلات،مسائل،جرائم اوردیگر واقعات کی مختصراً صورت حال اس طرح رہی جس میں یونان بھر میں مختلف واقعات میں پچیس پاکستانیوں کوقتل کیاگیاجن میں زیادہ تراپنے ہی پاکستانی ہم وطنوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اوربعض مقتولین کی لاشیں کوڑے کے ڈھیروں اورکوڑا دان کے علاوہ چادروں میں لپٹی ہوئی بھی ملیں،اغوابرائے تاوان میں ایک سوکے قریب افراد کواغوابرائے تاوان کے گروہوں سے مقامی پولیس نے بازیاب کرایااغواکی وارادتوں میں ایک پاکستانی امام مسجد کے اغواکامعاملہ بھی اہم ہے۔جبکہ یونانی پولیس نے مختلف مقامات سے اغوابرائے تاوان اورلوگوں کویرغمال بنانے کے الزام میں دوسوکے قریب پاکستانیوں کوگرفتارکیاہے ۔یونانی پولیس کی جانب سے ساراسال میں غیرقانونی پاکستانیوں کی پکڑدھکڑکاسلسلہ بھی جاری رہاجن میں سے بعض کوعدالتی حکم پررہاکردیاگیاجبکہ بے درجنوں پاکستانیوں کویونان سے ڈی پورٹ کیاگیا۔سال دوہزار گیارہ میں دوخودکشی کے واقعات ہوئے ۔یونا ن میں پاکستانی کمیونٹی کے چونسٹھ افراد مختلف واقعات میں جاں بحق ہوئے جن میں ٹریفک حادثات،بیماری،قدرتی اموات کے علاوہ اٹلی جانے کی کوشش میں کشتی ڈوبنے کے واقعات میں پچیس پاکستانیوں کے علاوہ ترکی سے یونان داخل ہوتے ہوئے سرحدی دریا کے پانی میں جاں بحق ہونے والے افراد سمیت جن میں ایک پاکستانی خاتون اوراس کی تین بچیاں بھی شامل تھی ان جاں بحق افراد میں شامل ہیں۔سال2011ء میں یونان کی پاکستانی کمیونٹی کومذہبی حوالے سے بے شمار مشکلات اورمسائل کاسامنا رہاجس میں پاکستانیوں کی ایتھنز میں مختلف مساجد پرمتعصبانہ اوراسلام مخالف حملوں کے علاوہ آتش زنی کے واقعات ایک امام مسجد کوتشدد کانشانہ بنائے جانے کے علاوہ مسلمانوں کے جذبات کومجروح کرنے کی خاطر توہین رسالت اورتوہین قرآن پرمبنی اوراوراق کوپاکستانی مساجد اورگھروں کے قریب پھینکنے ،جزیرہ ساموس اورمسلم علاقے کسانتھی میں مساجد کے باہر سور کے خون سے دیواروں کورنگنے اوران کی کھوپڑیوں کومساجد کے داخلی دروازوں کے سامنے پھینکنے جیسے واقعات ہوئے جن سے پاکستانیوں سمیت دیگر مسلم اقوام نے بھی ان واقعات کی پرزو رمذمت کی اور ان واقعات کابھرپورردعمل ظاہرکیاگیا۔متعصب یونانیوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے گھروں پرحملوں کے نتیجہ میں بے شمار پاکستانی گھرانے نذرآتش کیے گے جن میں ایتھنز کے مغربی علاقے آسپروپیرگوس کے علاوہ میندی اورریندی میں یہ واقعات زیادہ پیش آئے۔یونانی متعصب گینگ خریسی اووگی(گولڈن ڈان) اورنیونازیوں کے نوجوان گروپوں نے پاکستانیوں کوایتھنز کے مختلف علاقہ جات میں تشدد کانشانہ بنایاجن میں کم ازکم دوسو کے قریب پاکستانی مضروب ہوئے جزیرہ کریتی میں بھی واقعات سامنے آئے۔مختلف جرائم میں ملوث پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد کوگرفتارکرکے ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گے جن میں منشیات فروشی،ریلوے کی تانبے کی تاریں اوردیگر سرکاری املاک کی اشیا کی چوری کرنے کے واقعات قابل ذکر ہیں۔ایتھنز سمیت یونان کے مختلف شہروں میں رہزنی کی وارداتوں میں سینکڑوں پاکستانی نشانہ بنے۔یونان میں جاری اقتصادی ومعاشی بحران نے پاکستانی کمیونٹی کوشدید متاثر کیااوران میں بے روزگاری کااضافہ دیکھنے کوملا جس کے باعث لوگوں نے یونان کوچھوڑنے کو ترجیح دی۔بے روزگاری اورمعاشی تنگی کے باعث قانونی حیثیت کے تارکین وطن کومعاوضوں میں کمی کاسامنا ہواغیرقانونی تارکین وطن نے رضاکارانہ سکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یونان چھوڑ کرپاکستان جانے کوترجیح دی جس سے سینکڑوں پاکستانی مستفید ہوئے تاہم غیرقانونی طورپریونان آنے والے پاکستانیوں کی آمد کاسلسلہ پھربھی بند نہ ہوا اورانسانی اسمگلروں معصوم اورمجبورپاکستانیوں کویورپ کاسنہری جھانسہ دے کر ورغلاتے رہے اوریونان لانے کے دھندے میں ہزاروں پاکستانیوں کوغیرقانونی طورپریونان لاتے رہے۔یونان کے معاشی واقتصادی بحران نے پاکستانی تاجروں کوانتہائی مشکل حالات میں دھکیل دیاہے بے روزگاری،مہنگائی اورٹیکسوں میں اضافے نے کاروبار کوانتہائی منداکردیاجس کے باعث پاکستانی تاجرپیشہ افراد مشکلات ومالی عدم استحکام کاشکار ہیں۔یونان کے مشکل ترین حالات کے باوجود سال2011ء میں پاکستانی برادری میں حسب روایت تمام مذہبی وقومی تہوار منائے گے مختلف سیاسی پارٹیوں کے مقامی کارکنان نے مختلف مواقع پرتقریبات کااہتمام کیا،کلچرل پروگرامز،عیدملن پارٹیاں،افطار پارٹیاں،عیدمیلاد النبی کے جلوس،عاشورہ کااہتمام اوردیگر مختلف روحانی ودینی محافل کابھرپور انعقادکیاگیا،مختلف مذہبی تنظیموں کی جانب سے ہفتہ وار اجتماعات کے علاوہ بڑے اجتماعات بھی منعقد کرائے گے جن میں پاکستان اوریورپ سے معروف عالم دین نے خصوصی شرکت کی،تین یونانی اوردوامریکی خواتین نے قبول اسلام کیا۔ایتھنز میں ہونے والے اسپیشل اولمپک اس لحاظ سے یادگارتھے کے ایتھنز اسپیشل اولمپک کھیلوں میں شریک پاکستانی دستے کواس دفعہ بھرپورکوریج دی گئی جس کے باعث ان خصوصی بچوں کی اعلیٰ کارکردگی سے پاکستانی قوم متعارف ہوئی اورایتھنز اسپیشل اولمپک میں پاکستانی کھلاڑیوں نے سترہ سونے کے تمغوں کے ساتھ چھپن میڈلز جیت کر ملک وقوم کانام روشن کیا ۔