تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
2 جنوری 2012
وقت اشاعت: 19:27

باکسنگ فیڈریشن میں بد انتظامی عروج پر،کوئی پرسان حال نہیں

جنگ نیوز -
کراچی … 2011 ء کا آخری سورج کھیلوں کی تاریخ کا آخری بدترین شہید بینظیر باکسنگ ایونٹ کو بھی اپنے ساتھ لیکر ڈوب گیا۔ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے موجودہ عہدیدار اس ایونٹ کے ذریعے ملک کی عزت و ناموس کو مٹی میں ملانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ سیاست کے ساتھ ساتھ کھیلوں کو بھی کرپشن اور انسانی اسملنگ جیسے گھاؤنے عمل سے بدنام کرنے والے پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے عہدیداروں کے خلاف حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کا نہ ہونا سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان اولمپک ایسو سی ایشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈکے سربراہان بھی کھیلوں میں کرپشن کو بڑھانے میں بلاواسطہ منسلک نظر آتے ہیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر ہونے والے باکسنگ ٹورنامنٹ میں بدانتظامی انتہائی عروج پر رہی، جہاں مختلف ٹیموں کے آفیشلز اور کھلاڑی گرم پانی، رہنے کی نامناسب جگہ، کھانے اور آرام کیلئے بستروں کی کمی کا رونا روتے نظر آئے وہیں ٹورنامنٹ کے آخری روز فائنلز مقابلوکے فاتحین کے ساتھ بھی انتہائی سنگین مذاق کیا گیا، فائنلز کے موقع پر کھلاڑیوں کو دینے کیلئے میڈلز بھی دستیاب نہیں تھے، ان کا انتظام بھی ایک روز بعد کیا گیا۔ فیڈریشن نے باکسنگ کے ٹریننگ کیمپ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کو دو ہفتے کا ریسٹ دیدیا گیا ہے۔ اب وہ دو ہفتے بعد کیمپ میں شرکت کریں گے۔ اسلام آباد کے جناح اسپورٹس کمپلکس میں 23 تا 29 دسمبر تک منعقد ہونے والے شہید بینظیر باکسنگ ٹورنامنٹ میں ٹورنامنٹ میں ازبکستان، منگولیا، نیپال، ایران، شام، کینیا، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، سنگاپور، سینٹرل افریقا اور کیمرون کے 83 باکسرز سمیت پاکستان کے چار ٹیموں کے 34 باکسروں نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ مختلف ممالک کے ٹیکنیکل ڈیلی گیٹس، آئی کیوز، ریفری ججز بھی شامل تھے۔ انتظامی لحاظ سے پاکستان کی تاریخ کا بدترین ٹورنامنٹ ثابت ہوا جس میں مختلف ممالک آفیشلز اور کھلاڑی سہولتوں کے فقدان کا رونا روتے نظر آئے۔ سنگاپور، سری لنکن، کینین، ازبک اور نیپال سمیت مختلف ممالک کے کھلاڑیوں نے کھانا لنگر کی صورت میں فراہم کرنے، تین تین کھلاڑیوں کیلئے ایک ایک بستر فراہم کرنے، سخت سرد ترین موسم میں گرم پانی کا نہ ہونا ، انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے ملک سے رابطہ نہ ہونا، لانڈری اور دیگر سہولیات کا فقدان تھا۔ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے سربراہ دودا خان بھٹو نے پاکستان اسپورٹس بورڈ سے تین کروڑ روپے کی رقم ٹورنامنٹ کے آغاز سے دو ماہ قبل حاصل کرلی تھی جبکہ اسپانسر شپ کے حوالے سے بھی کروڑوں روپے حاصل کئے گئے۔ ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل فیڈریشن نے دو فائیو اسٹار ہوٹلوں کو ایک کروڑ 64 لاکھ روپے کی رقم کی ادائیگی کا دعوی کیا لیکن کھلاڑیوں کو وہاں نہیں ٹہرایا بلکہ پی ایس بی کے خواتین اور مردوں کے ہوسٹلز میں انہیں رکھا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کھلاڑیوں کیلئے 31 لاکھ روپے کا سامان منگوانے کا دعوی کیا گیا لیکن وہاں بھی دو نمبر سامان استعمال کیا گیا۔ دریں اثناء پاکستان اسکول اسپورٹس اولمپک کے زیرِ اہتمام اسکول ایتھلیٹکس 28 جنوری سے شروع ہوں گے۔ صدر پاکستان اسکول اسپورٹس اولمپکس کے صدر گوہر رضا کے مطابق چیمپئن شپ کراچی یونیورسٹی کے تعاون سے یونیورسٹی کے ایتھلیٹکس گراؤنڈ پر منعقد ہوگی جس میں مختلف اسکولوں کے طلباء شرکت کرسکتے ہیں۔ ایونٹ میں شرکت کے خواہشمند اسکول اور طلبا محمد رفیع اور مجاہد علی سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.