3 جنوری 2012
وقت اشاعت: 9:50
بھٹو ریفرنس، بابر اعوان نے ری وزٹ سے متعلق عدالتی حوالے دیئے
جنگ نیوز -
اسلام آباد… سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پھانسی کیس میں صدارتی ریفرنس پر مقدمہ کے ازسرنوجائزہ سے متعلق آئینی سوال اٹھادیا ہے، پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے کیس کے ری اوپن یا ری ٹرائل کی مخالفت کی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی لارجر بنچ نے بھٹو ریفرنس کی سماعت کی، وفاق کے وکیل بابراعوان نے دلائل میں کہاکہ ملزم کو سنے بغیر سزائے موت نہیں دی جاسکتی، انہوں نے مقدمہ کے فیصلے پر ری وزٹ سے متعلق 2 عدالتی حوالے دئیے جو گورنرجنرل ریفرنس اور بھارتی سپریم کورٹ کے 1992ء کے ایک فیصلے سے متعلق تھے، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ کیا ان دونوں حوالوں میں کیس کے ری وزٹ ہونے کا کہا گیا،کوئی ایک مثال تو دیں جس میں فیصلہ کی درستگی کی گئی ہو،بابراعوان نے دلائل مکمل کئے تو اٹارنی جنرل کو دلائل پیش کرنے کا کہاگیا، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ بتائیں آرٹیکل 186 کے تحت کیسے مقدمہ کا ازسرنو جائزہ لیاجاسکتا ہے، ٹرائل میں زیادتی ہوئی ہو تو بالکل اسکی تصیح ہونی چاہیئے، ہم تو یہ پوچھ رہے ہیں کہ جس آرٹیکل پر صدر نے ریفرنس بھیجا کیا اس سے ایسا ممکن ہے،جسٹس سرمدجلال نے پوچھاکہ جہاں قانونی مراحل پورے ہوچکے ہوں وہ کیس کیسے کھل سکتا ہے، پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نیکہاکہ سپریم کورٹ اپنے مشاورتی اختیارسماعت پر کیس کو ری اوپن یا اسکا ری ٹرائل نہیں کرسکتی، مشاورتی اختیار کو اپیلٹ اختیار میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا، آرٹیکل 186 کے تحت قانون سازی اور انتطامیہ کے مسائل پر عدالت رائے دے سکتی ہے، عدالتی معاون فخرالدین جی ابراہیم نیکہاکہ ایک بھارتی فیصلہ میں کہاگیاکہ ناانصافی ہوئی ہو یا تعصب برتا گیا ہو تو کیس ری اوپن کیاجاسکتاہے، عدالت نے ان سے اسکی مزید تفصیل طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔