تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
3 جنوری 2012
وقت اشاعت: 10:5

کراچی میں فوجی عدالتوں کے قیام کی بات افسوسناک ہے،وزیر اعظم

جنگ نیوز -


اسلام آباد…وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سرائیکی صوبے کی مخالفت کرنے والے کو عوام مسترد کر دینگے، سرائیکی علاقے سے وزیراعظم ہونے کے باوجود اگر انہیں صوبہ نہیں ملے گا تو پھر کب ملے گا، ہم پاکستان بنانے والوں میں سے ہیں ملک توڑنے والوں میں سے نہیں، کراچی میں فوجی عدالتوں کے قیام کی بات افسوسناک ہے، پاکستان میں آمریت نہیں ہے اس حوالے سے دوہرا معیار نہیں ہونا چاہئے، جمہوری ادوار میں فوج صرف سویلین معاونت کیلئے طلب کی جاتی ہے، سرائیکی صوبہ آج کی بات نہیں بلکہ یہ سندھ اور ہند کے دور کا ہے، ہماری پانچ ہزار سال پرانی روایات ہیں۔ منگل کو قومی اسمبلی میں سرائیکی اور ہزارہ صوبہ کے حوالے سے قرارداد پر سردار مہتاب احمد خان کی طرف سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ وہ سرائیکی صوبے کی حمایت کرتے ہیں، یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے، پیپلز پارٹی ایک وفاقی جماعت ہے یہ جماعت چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، فاٹا اور آزاد کشمیر میں موجود ہے، سرائیکی صوبہ بنانے کے حوالے سے جو تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس سے ملک توڑنے کی طرف جا رہے ہیں یہ درست نہیں ہے، ہم ملک بنانے والوں میں سے ہیں ملک توڑنے والوں میں سے نہیں۔ ہمارے بزرگوں نے قائداعظم کے ساتھ ملکر قیام پاکستان کیلئے جدوجہد کی ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا دارالحکومت ملتان تھا اور ہمارے جدامجد وہاں کے گورنر تھے، ہماری پانچ ہزار سال پرانی روایات ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جب پاکستان کے وزیراعظم بنے تو انہوں نے پنجاب کا گورنر اور وزیراعلیٰ سرائیکی علاقے سے بنایا، بینظیر بھٹو کے دور میں صدر مملکت سرائیکی علاقے سے تھا اور ان کے دور میںا سپیکر بھی سرائیکی علاقے سے تھا جو پیپلز پارٹی کی سرائیکی عوام کے ساتھ محبت کا کھلا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ بتایا جائے کہ نان بھٹو اور نان سندھی کیسے ملک کا وزیراعظم بن گیا، یہ پی پی پی کی سرائیکی دوستی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز بات کی گئی ہے کہ میں اپنے بیٹے کو وزیراعلیٰ بنانے کیلئے سرائیکی صوبہ بنانا چاہتا ہوں میں ملک کا وزیراعظم ہوں مجھے اس کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی صوبہ ایک فطری بات ہے اگر کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے تو سب اس کو مسترد کر دینگے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہم گلگت بلتستان اور فاٹا کے عوام کو اختیارات اور خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کی شناخت دے رہے ہیں تو ہم کیسے اپنے علاقے کے لوگوں کو یہ حق نہیں دینگے۔ انہوں نے بتایا کہ ہزارہ کا وفد ان کے پاس آیا جس پر انہوں نے اسفندیار ولی سے بات کی کہ ہزارہ صوبہ کے مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے جس پر انہوں نے کہا کہ آپ اپنی پارٹی میں اتفاق رائے پیدا کریں، اس کیلئے ایوان میں دو تہائی اکثریت ضروری ہو گی اس کے فوری بعد میں نے یہ معاملہ اپنی پارٹی کی منشور کمیٹی کے حوالے کر دیا تاکہ اس پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ اس پر کسی کو یہ اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ ہم ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی نے 1973ء کا متفقہ آئین دیا جو پاکستان کے تحفظ کی ضمانت ہے، یہ آئین پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.