3 جنوری 2012
وقت اشاعت: 19:6
خیرپور کی جلبانی برادری کے معززین کا ایم کیوایم میں شمولیت کا اعلان
جنگ نیوز -
کراچی…خیر پور کی تحصیل کنگری سے تعلق رکھنے والی جلباتی برادری کے معززین نے قائد تحریک الطاف حسین کے فکر وفلسفہ اور نظریہ سے متاثر ہوکر متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے اور 20جنوری کو سکھر میں ایم کیوایم کے تحت ہونے والے جلسہ عام میں بھر پور شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ یہ اعلان اور یقین دہانی جلبانی برادری کی شخصیات نے گزشتہ روز خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان گلفراز خان خٹک اور یوسف شاہوانی سے ملاقات کے دوران کرائی۔اس موقع پر ایم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے رکن پیر غلام مجدد سرہندی ،متحدہ سوشل فورم کے انچارج لونگ خان چنہ،جوائنٹ انچارج غازی صلاح الدین اوراراکین کمیٹی بھی موجود تھے ۔ایم کیوایم میں شمولیت کا اعلان کرنے والی جلبانی برادری کی شخصیات میں پروفیسر محمد نواز جلبانی، اشفاق خان جلبانی،عرفان خان جلبانی ،کامران خان جلبانی،وقار احمد جلبانی ،زاہد حسین جلبانی ،ایاز گل جلبانی ،سیّد کامل شاہ ،محمد بچل خاصخیلی ، عبل خاصخیلی ،مولا بخش کھوسو ، خرم میمن ، علی خان بڑدی اور دیگر شامل ہیں ۔ملاقات میں شمولیت اختیار کرنے والی شخصیات نے اپنے جذبات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ سکھر میں ایم کیوایم کے تحت ہونے والا جلسہ انشاء اللہ تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ثابت ہوگا اور اس جلسہ عام کے حوالے سے سندھ بھر کے عوام میں زبردست جوش و خروش پایا جارہا ہے ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین نے شمولیت اختیار کرنے والی شخصیات کے جذبات کو سرہاتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک میں غریب و مظلوم طبقے کی جدوجہد کررہی ہے ہے۔انھوں نے جلبانی برادری کی شخصیات کی ایم کیوایم میں شمولیت کا زبردست خیر مقدم کیا ۔دریں اثناء رابطہ کمیٹی نے شہر میں فائرنگ کے واقعات میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام کی شہادت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور علمائے کرام کی شہادت کو شہر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا سبوتاژ کرکے امن وامان خراب کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا ہے ۔ ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ قائد تحریک الطاف حسین کی عملی کاوشوں کے باعث آج شہر سے فرقہ وارانہ فسادات کا خاتمہ ہوچکا ہے تاہم بعض سازشی عناصر آج بھی مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناکر عوام کے جذبات مشتعل کررہے ہیں اور انہیں آپس میں دست و گریباں کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ جو سازشی عناصر علمائے کرام کی شہادت کے واقعات میں ملوث ہیں وہ نہ صرف شہر کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں بلکہ اپنے گھناؤنے عزائم کی تکمیل کرکے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔عوام ان گھناؤنی سازشوں کو سمجھیں اور صبر و تحمل کا دامن اپنے ہاتھ سے ہرگز نہ چھوڑیں ۔ رابطہ کمیٹی نے صدر آصف زرداری اوروزیراعظم گیلانی سمیت اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ فائرنگ کے واقعات میں مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی شہادت اور فرقہ وارانہ فسادات کی گھناؤنی سازش کا سختی سے نوٹس لیاجائے۔