4 جنوری 2012
وقت اشاعت: 19:29
2مئی واقعے پر سخت رد عمل کا اخلاقی جواز نہیں تھا، وزیر خارجہ
جنگ نیوز -
اسلام آباد … وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ 2 مئی کے واقعے پر اخلاقی جواز نہ ہونے کے باعث سخت رد عمل ظاہر نہیں کر سکتے تھے کیوں کہ یہ حقیقت ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں پایا گیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھا جائے گا، قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران حنا ربانی کھر نے کہا امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی سا لمیت اور خود مختاری سب سے مقدم ہے۔ نیٹو سپلائی کی بندش کا کریڈٹ پارلیمنٹ کو جاتا ہے، سخت رد عمل کا موقع سلالہ چیک پوسٹ پر حملے نے فراہم کر دیا ، جمہوری حکومت کی جگہ کوئی بھی دوسری حکومت ہوتی تو نیٹو سپلائی کی بندش جیسا فیصلہ نہیں کر سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ خارجہ پالیسی تبدیل ہوتی رہتی ہے، بھارت سمیت تمام ہمسایوں سے پر امن تعلقات چاہتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی پابندیوں کا اطلاق پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر نہیں ہوتا، گیس کی کمی ہے اس لئے پاکستان گیس کے حصول کا ہر آپشن استعمال کرنا چاہتا ہے۔ وفاقی وزیر فنی تربیت ریاض پیرزادہ نے بھی پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ کوئی تباہی پھیلانے والا ہتھیار نہیں عوامی مفاد کا ہے، جس کے بغیر پاکستان کا گزارہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اس منصوبے پر پابندیاں عائد کرتا ہے تو حل ڈھونڈنا ہوگا۔ وزارت خارجہ نے ایوان کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور علاقائی سلامتی کے اصولوں پر مبنی ہے۔