5 جنوری 2012
وقت اشاعت: 6:51
کیوں نہ بابر اعوان کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے، چیف جسٹس
جنگ نیوز -
اسلام آباد… سپریم کورٹ میں بھٹو کیس سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران وفاق کے وکیل بابر اعوان کی گذشتہ روز میڈیا سے گفتگو کی ویڈیو کمرہ عدالت میں دکھائی گئی جس پر بابر اعوان کی سرزنش کی گئی اور سپریم کورٹ کی جانب سے ایک اور اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کیوں نہ بابر اعوان کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے۔ آج جب کارروائی شروع ہوئی تو کمرہ عدالت میں بابر اعوان کی گذشتہ روز کی ویڈیو دکھانے کے بعد جسٹس جواد کا کہنا تھا کہ36سال سے اس شعبے سے وابستہ ہیں آج یہ عزت ملی؟ یہ تنقید نہیں توہین کی گئی۔ بابر اعوان نے موٴقف اختیار کیا کہ انہوں نے عدالت کی تحسین کی جس پر وہاں موجود لطیف آفریدی اور یسین آزاد دونوں نے بابر اعوان کے بیان کی مذمت کی تاہم عدالت سے درخواست ہے کہ وہ تحمل سے کام لے۔ جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس میں کہا کہ وہ عدلیہ پر تنقید کے حق میں ہیں لیکن بابر اعوان کا بیان عدلیہ پر تنقید نہیں۔ انہوں نے بابر اعوان سے سوال کیا کہ وہ کتنے عرصے سے وکالت کررہے ہیں جس پر بابر اعوان نے کہا کہ دن اور تاریخ یاد نہیں۔ چیف جسٹس نے بابر اعوان سے ویڈیو دیکھنے کے بعد سوال کیا کہ یہ کیا ہے؟انہوں نے بابر اعوان سے کہا کہ وکالت کا لائسنس کب ملا، فائل لے کر آئیں ، عدالتی کارروائی کی تضحیک کا کسی کو اختیار نہیں، بابر اعوان کا یہ رویہ اور طرز عمل درست نہیں، وہ اس عمل کی وضاحت پیش کریں اور بابر اعوان اس نوٹس کا جواب 9جنوری سے پہلے داخل کریں۔ اس حکم نامے کے بعد بھٹو ریفرنس کیس کی سماعت 9جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔