6 جنوری 2012
وقت اشاعت: 7:18
نئے صوبے کا معاملہ ایجنڈے میں شامل نہ ہونے پر ایم کیو ایم کا اعتراض
جنگ نیوز -
اسلام آباد… نئے صوبوں کے معاملے پر قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم نے آج پھر آواز اٹھائی اور اتحادیوں سے مل کر ایوان کے بائیکاٹ کی دھمکی دیدی۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہاکہ ابھی تو ایسی قرارداد آئی ہی نہیں۔ حکومت کا کہناہے کہ سرائیکی صوبہ کے قیام کا بل لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے حیدرعباس رضوی نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ آج کے ایجنڈا میں پھر نئے صوبوں کی قرارداد شامل نہیں جس پر ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ نئے صوبوں کی قرارداد تو پیش ہی نہیں ہوئی پھر یہ ایجنڈے میں کیسے شامل ہو۔ ایم کیوایم کے رہنما فاروق ستار نے کہاکہ گذشتہ روزخوش فہمی میں رکھاگیا کہ قرارداد پر بحث ہورہی ہے، آج اس قرارداد پر ووٹنگ نہ کرائی گئی توایم کیوایم ، فاٹا، مسلم لیگ ق اور جے یو آئی کے اراکین اجلاس کا بائے کاٹ کریں گے۔ اے این پی کے غلام احمد بلورنے کہاکہ صوبوں کو حقوق دیے ایک سال نہیں گزرا اور ان سے حق واپس مانگا جارہا ہے، یہ سب سازش کے تحت کیا جارہا ہے، آج قومی اسمبلی میں پنجاب یا خیبرپختونخوا کو توڑا گیا تو کل سندھ کیلئے بھی ایسا ہوگا، وزیرقانون مولا بخش نے کہاکہ سندھ کی تقسیم برداشت نہیں کی جائے گی، وفاقی وزیرخورشیدشاہ کا کہناتھا کہ حکومت ، سرائیکی صوبہ کا بل لائے گی،اسکے لیے اتفاق رائے پیدا کیا جارہا ہے، اتفاق رائے ہوا تو ہزارہ صوبے کا بل بھی لایاجائے گا، نئے صوبوں کی قرارداد پر ووٹنگ قومی اسمبلی میں نہیں کراسکتے، اس دوران ایم کیوایم اراکین والے ایوان میں نعرے بازی کرتے رہے۔