6 جنوری 2012
وقت اشاعت: 9:18
امریکی زوال پاکستان سمیت 8ممالک کیلئے خطرہ،امریکی جریدہ
جنگ نیوز -
کراچی…رفیق مانگٹ…امریکا کے زوال سے پاکستان سمیت 8ممالک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں گے۔پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اس کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔امریکی جریدے میں شائع مضمون میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر امریکا کا زوال آٹھ ممالک کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جائے گا اور وہ ہمسایہ اور علاقائی طاقتوں کے رحم کرم پر ہوں گے۔ بھارت اور چین طاقت پکڑ رہے ہیں،روس بھی اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے، اور مشرق وسطی مزیدغیر مستحکم ہو رہا ہے۔ مضمون کے مطابق پاکستان اگرچہ21ویں صدی کے جوہری ہتھیاروں سے لیس اور20صدی کی ایک پیشہ ور فوج کا بھی حامل ہے تاہم ابھی بھی پاکستان کی اکثریت پری ماڈرن ، دیہی ، زیادہ تر علاقائی اور قبائلی تشخص پر مشتمل ہے۔بھارت کے ساتھ تنازعات کی وجہ سے پاکستان اپنے قومی تشخص کے متعلق حسا س ہے اور کشمیر مسئلے کی وجہ سے بھی بھارت کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔امریکی زوال سے پاکستان کی امداد میں کمی آجائے گی جس سے ترقیاتی کام رک جائیں گے۔امریکی زوال سے پاکستان میں فوجی حکومت ا یک بنیاد پرست اسلامی ریاست بن سکتی یا فوجی اور اسلامی حکمرانی پر مشتمل ریاست میں تبدیل ہو سکتی ہے۔یا ایسی ریاست جس کی کوئی مرکزی حکومت نہ ہو۔اس صورت حال سے جو سنگین خطرات ہوں گے وہ پاکستان کاایک ایٹمی جاگیرداری میں ڈھلنا ، ایران کی طرح ایک عسکریت پسند مسلح جوہری ہتھیاروں سے لیس مغرب مخالف حکومت کا قیام یاوسطی ایشیاء میں علاقائی عدم استحکام ہونا ہے۔امریکا کے کمزور ہونے سے پاکستان کے علاوہ افغانستان،تائیوان،جارجیا،جنوبی کوریا،اسرئیل،بیلارس اوریوکرائن کی سلامتی داوٴ پر لگ سکتی ہے ۔امریکا نے جارجیا کو 1991سے3 ارب ڈالر امداد فراہم کی ہے اور2008میں روس کے خلاف جنگ میں ایک ارب ڈالر فراہم کیے گئے۔تائیوان کو 1972سے امریکا نے تسلیم کیا ہوا ہے،اس کا انحصار چین پر ہوگا۔1950میں شمالی کوریا کے جنوبی کوریا پر حملے کے بعد اس کی سلامتی کا ضامن امریکا ہے ،جنوبی کوریا کے لئے بھی مشکل ہو گی، یو کرائن روس کے رحم وکرم ہو گا،افغانستان پر طالبان برسر اقتدار آسکتے ہیں ۔ بیلارس کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جس سیہمسایہ بالٹک ریاستوں ، خاص طور پر لٹویا کی سلامتی شامل ہے ۔ اسرائیل بھی امریکی زوال سے ختم ہوسکتا ہے۔