6 جنوری 2012
وقت اشاعت: 10:29
ریونیو ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کا مقدمہ،سپریم کورٹ میں سماعت
جنگ نیوز -
اسلام آباد… سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ریونیو رکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ بنانے کیلئے صوبوں کو اضافی وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کرتے ہوئے ان سے ہر پندرہ روز بعد پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی ہے چیف جسٹس افتخارچودھری اور جسٹس خلجی عارف پر مشتمل بنچ نے ریونیو ریکارڈ کیس کی سماعت کی۔ بلوچستان کے سیکریٹری ریونیو نے بتایاکہ ریونیو رکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے میں 5 سال صرف ہوں گے، چیف جسٹس نے اسے مذاق کہتے ہوئے کہاکہ ریونیو میں بلوچستان سب سے امیر صوبہ ہے، کوئی اچھا کام بھی کرلیں تاکہ لوگ دعا دیں، پنجاب کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایاکہ ریونیو رکارڈ لاپتا اور خستہ حالت میں ہے، قصور، لاہور اور لودھراں کا ریونیو رکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرلیا گیا ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ یہ کوئی پراگریس نہیں، پہلے ان علاقوں میں جائیں جہاں جاگیردار اور زمیندار ہیں، مزارعوں کی کوئی نہیں سنتا، انگریز کا شکریہ ادا کریں جو سروے کراکے دے گیا، آپ نے تو محض کمپیوٹرائزڈ رکارڈ بنانا ہے، خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایاگیاکہ ریونیو رکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا عمل 2007ء میں شروع ہوا تھا، اس میں مزید 2 برس صرف ہوں گے، سندھ کی طرف سے بتایاگیاکہ ہر ضلع میں ریونیو ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا مرکز بنایا جارہا ہے اور ٹاسک 31 دسمبر 2012ء تک مکمل کرلیاجائے گا، عدالت نے اپنے حکم میں کہاکہ صوبائی حکومتیں، ریونیو رکارڈ کمپیوٹرائزڈ بنانے کا عمل تیز کریں،سندھ اور پنجاب اس عمل تکنیکی معاونت بلوچستان کو دیں، بعد میں سماعت ملتوی کردی گئی۔