6 جنوری 2012
وقت اشاعت: 16:7
آئندہ کسی طالع آزما کو آئین توڑنے کی جرات نہیں ہوگی،چیف جسٹس
جنگ نیوز -
راولپنڈی...چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ بعض لوگ دوبارہ آمریت کی بات صرف اپنی دکانداری چمکانے کے لئے کررہے ہیں، کوئی سمجھتا ہے کہ فیصلہ اس کی مرضی سے ہو، یہ اس کی غلط فہمی ہے، کسی کو اچھا لگتا ہے یا برا، فیصلے آئین و قانون کے تحت ہوں گے۔ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کے استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کی قربانیوں سے آئندہ کسی طالع آزما کو آئین توڑنے کی جرات نہیں ہوگی ، 31جولائی کا فیصلہ ہم نے دیا تو آمر کے 3 نومبر کے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیا۔ سب سے پہلے ججوں نے خود کو آئین کا پابند بنایا ، جج صاحبان نے خودپر قدغن لگائی کہ آئندہ کوئی جج آئین سے ماوراء حلف نہیں لے گا۔ تین نومبر 2007 سے پہلے کبھی نہیں ہوا کہ آمر نے آئین توڑا اور سپریم کورٹ نے اس پر رد عمل ظاہر کیا- چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے بعد لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بڑھ گیا ہے - روز بروز عدالتوں میں مقدموں کی تعداد بڑھ رہی ہے- اب ہر جج شام تک بیٹھا کام کررہا ہوتا ہے- میڈیا کی وجہ سے اب تمام اطلاعات لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں- مقدمات میں تاخیر سب کے لئے تکلیف دہ ہے- چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے 2009 میں پہلی قومی عدالتی پالیسی جاری کی جس کی وجہ سے وکلاء اور لاء آفیسرز کو عزت ملی- اپریل میں قومی عدالتی کانفرنس اسلام آباد میں ہوگی-عدلیہ میں شفافیت لانے اور کرپشن ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں- عدلیہ سے متعلق کئی شخصیات کو فارغ کیا گیا ہے- چیف جسٹس نے کہا کہ اب فوج داری مقدمات میں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے،اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہائیکورٹس میں ججز صاحبان کی ہمیشہ کمی رہی ہے،تمام ہائیکورٹس میں ججز کی کمی جلد دور کریں گے-