6 جنوری 2012
وقت اشاعت: 16:30
بلوچستان میں صورتحال خراب ہوچکی ہے، لوگ باغی نہیں ،نواز شریف
جنگ نیوز -
کوئٹہ...مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں صورتحال غیرمعمولی طور پر خراب ہوچکی ہے، صوبے کے مسائل پر قومی کانفرنس فوری طور پر بلائی جائے،صوبے کے لوگ باغی نہیں ہیں اگر یہ باغی ہوئے تو حکومت ذمہ دار ہوگی۔ یہ بات انہوں نے بگٹی ہاوس میں جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ طلال بگٹی کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں کہی۔میاں نوازشریف نے کہا کہ بلوچستان میں آپریشن ،نواب اکبر بگٹی اور نوابزادہ بالاچ مری کی شہادت کی وجہ سے عوام کے دلوں میں لگے زخموں کی وجہ سے ہیں،جو بلوچستان پیکج سے مندمل نہیں ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر مشرف نے بلوچستان کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں تو زرداری اور گیلانی صاحب ان کے ساتھ ایسا کیوں کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کسی کی بھی ہو یہ عمل بند ہونا چاہئیے، ایک سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ایجنسیوں کو اپنا کام کرنا چاہیئے اور سیاستدانوں کو اپنا کام کرنے دینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہم انتظامی بنیادوں پر ہر نئے صوبے کو سپورٹ کریں گے، میاں نواز شریف نے مزید کہا کہ الیکشن عوام کی ڈیمانڈ ہیں اور جتنی جلدی ہوسکیں حکومت کو الیکشن کرانے چاہیے۔اس موقع پر جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ طلال بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں نوجوانوں کو اغوا اور مسخ شدہ لاشوں پھینکنے والوں کو بے نقاب کیا جانا اور ڈیرہ بگٹی سے بے دخل کئے گئے بگٹی قبیلے کے افراد کو ڈیرہ بگٹی میں دوبارہ آباد کیا جائے ۔دریں اثناء نواز شریف کے دورہ کوئٹہ کے موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی سے رابطہ تو نہیں ہوا لیکن میاں صاحب کوئٹہ آکر نواب رئیسانی کے رنگ میں رنگ گئے اور صحافی کے سوال کے جواب میں کہہ ہی دیا کہ رویہ تو رویہ ہوتا ہے پرانا ہو یا نیا، وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی اکثر ایسے جملے کہا جاتے ہیں جو نہ صرف میڈیا کیلئے ہیڈ لائن بند جاتا ہے بلکہ لوگ بھی ان جملوں سے خاصے محظوظ ہوتے ہیں۔نواز شریف کے بگٹی ہاوس میں نیوز کانفرنسکے دوران ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ اقتدار میں آکر فوج کے ساتھ ان کا رویہ کیسے ہوگا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ رویہ تو رویہ ہوتا ہے پرانا ہو یا نیا۔