تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
6 جنوری 2012
وقت اشاعت: 16:41

قبائلی علاقوں میں پولیو کیسز سامنے آرہے ہیں، سیکریٹری ایڈمنسٹریشن

جنگ نیوز -


پشاور...قبائلی علاقوں میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث بچوں تک پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے والی ٹیموں کی رسائی نہ ہونے سے پولیو کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ جبکہ بعض قبائلی علاقے ایسے ہیں، جہاں دو یا تین سال بعد بچوں کو انسدادپولیو کے قطرے پلائے گئے۔ یہ بات انسداد پولیو مہم سے متعلق گورنر خیبرپختونخوا مسعود کوثر کی زیرصدارت اجلاس کو بریفنگ کے دوران سیکریٹری ایڈمنسٹریشن فاٹا نے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں سال 2010 میں 74 جبکہ سال 2011 میں 55 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے۔ جس کی بڑی وجہ امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث بچوں تک پولیو ویکسین کی عدم رسائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ایسے قبائلی علاقے ہیں، جہاں دو یا تین سال بعد بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ سیکریٹری ایڈمنسٹریشن فاٹا کے مطابق بہتر کارکردگی پیش نہ کرنے پر 7 ایجنسی سرجنز کو تبدیل کیا گیا۔ سیکریٹری محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے بھی اجلاس کو بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ خراب کارکردگی پر محکمہ صحت کے 15 ضلعی افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پولیو کے 21 کیسز جبکہ سال 2010 میں پولیو کے 24 کیسز سامنے آئے تھے۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.