تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
6 جنوری 2012
وقت اشاعت: 18:40

میمو مسئلے پر پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ مانیں گے،صدر آصف زرداری

جنگ نیوز -


کراچی...صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات کیلئے نوازشریف کے ساتھ بات چیت پر تیار ہیں، فوج اور عدلیہ کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے، مشرف کا ٹرائل کرنا ہوا تو پارلیمنٹ کرے گی۔ میمومعاملے میں پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ مانیں گے۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے جیو نیوز کے سینئر اینکر پرسن حامد میر کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کیا۔ طویل عرصے کی خاموشی کے بعد اِس خصوصی انٹرویو میں مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ وزیراعظم گیلانی نے اُسامہ کی بغیر ویزا پاکستان میں موجودگی پر جو سوال اُٹھایا تھا اس میں اشارہ پرویزمشرف کی طرف تھا۔ حامد میر نے اُن کی توجہ اُس بیان کی طرف دلائی جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست برداشت نہیں کی جائے گی، جس پر صدر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم کسی کے ماتحت نہیں، اُنہیں اگر کوئی چیز تنگ کررہی ہو تو اُنہیں پوزیشن لینے کا حق حاصل ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ میمو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھی ہے اور سپریم کورٹ کے پاس بھی لیکن میری نظر میں پارلیمنٹ مقتدر ہے، اداروں کے درمیان لڑائی کا تاثر درست نہیں ہے تاہم اُنہوں نے اِس کیلئے ایویلیوشن کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب ارتقاء کا حصہ ہے، فوج اور عدلیہ کے ساتھ ہماری کوئی جنگ نہیں ہے، جنرل کیانی کو توسیع دینے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ جنرل کیانی کو توسیع دینے کا معاملہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ صدر سے اُن کی ہمشیرہ کے ایک نئی ایئرلائن شروع کرنے سے متعلق پوچھا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ اِس ایئرلائن کا لائسنس منسوخ کردیا جائے، میری بہن کو سیاست ہی سے فرصت نہیں، ہم نے اپنی زندگی سیاست کیلئے وقف کردی ہے اور ہم ایئرلائن نہیں چلاتے، میں آپ کے توسط سے اپنے وزیردفاع سے کہتا ہوں کہ اِس ایئرلائن کا لائنس منسوخ کردیا جائے اور اب جو بھی اِسے بحال کرانا چاہتا ہے وہ عدلیہ میں جائے۔ ریلوے واپڈا، پی آئی اے کمزور ہورہے ہیں، تباہی کی طرف نہیں جارہے، پرویزمشرف کا ٹرائل کرنے سے فوج کے مورال پر بُرا اثر پڑتا۔ اب اگر مشرف کا ٹرائل کرنا ہوتو پارلیمنٹ کریگی جسے تمام اختیارات سونپ دیئے گئے ہیں۔ ذوالفقارمرزا سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وہ ایک شعر سنا کر رہ گئے ”دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف تو اپنے ہی دوست سے ملاقات ہوگئی“ اُنہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے کیسے ٹوٹ گیا۔ میمو معاملے کو غیر ضروری شہرت دی گئی، منصور اعجاز کے مضمون پر قانونی کارروائی اس لئے نہیں کی کہ ایسا کرنا ملکی مفاد کے خلاف ہوتا۔انھوں نے اِس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ جلد عام انتخابات کیلئے اپوزیشن سے بات کرنے پر تیار ہیں، اگلے انتخابات میں بھی ہماری جماعت کا نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان ہوگا، سوئس عدالت کو خط لکھنا یا نہ لکھنا پارٹی کا فیصلہ ہے، اعتزاز احسن پارٹی میں شامل ہیں تاہم خط لکھنے کے حوالے سے اُن کی انفرادی رائے ہے، سوئس عدالتوں میں کیس محترمہ بینظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل ہے، اگر سوئس حکام کو خط لکھا جائے گا تو یہ بے نظیر بھٹو کی قبر کے ٹرائل کے مترادف ہوگا۔ ایک زرداری سب پر بھاری کا نعرہ لگانے پر پابندی لگادی ہے۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.