7 جنوری 2012
وقت اشاعت: 18:8
آئندہ الیکشن روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر لڑیں گے، زرداری
جنگ نیوز -
کراچی…صدرآصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ آئندہ الیکشن روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر لڑیں گے،مجھ سے کسی نے استعفیٰ نہیں مانگا،بینظیر بھٹو قتل کیس میں پیش رفت سے متعلق چیف جسٹس سے پوچھا جانا چاہیے،لوئر کورٹس کے ماتحت ہے، میں نے بینظیر کو پاکستان آنے سے روکا مگر وہ نہ مانی،میں آج بھی اس بات پر قائم ہوں کہ مجھے بی بی کے قاتلوں کا پتہ ہے،مشرف کا ٹرائل اس لئے نہیں کیا کہ اس سے فوج ڈی مورالائز ہوتی،ہم نے چوہدریوں سے 1989میں بھی دوستی کی کوشش کی تھی،جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کا معاملہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔اِن خیالات کا اظہار انہوں نے جیو نیوز کے سینئر اینکر پرسن حامد میر سے ایک خصوصی انٹرویومیں کیا۔پی پی کے نعرے ایک زرداری سب پربھاری پر انہوں نے کہا کہ میں نے پارٹی میں اس نعرے پر پابندی عائد کردی ہے،میں رات کے چار،چار بجے تک کام کرتا جس کا اثر میری صحت پر پڑا۔صدرزرداری کا کہناتھا کہا گڑھی خدا بخش کی تقریرمیں بینظیر قتل کیس میں کے حوالے سے چیف جسٹس کو اس لئے کہا کہ کیس لوئرجیوڈیشری میں ہے جو چیف جسٹس کے ماتحت ہیں، اس کیس میں چالان کیوں بدلے جارہیں یا کیوں ججز تبدیل ہوئے اس کا سوال مجھے سے نہیں کیا جاسکتا۔صدرکاکہنا تھا کہ وہ سابق وفاقی وزیر حج حامد کاظمی کو بے قصور سمجھتے ہیں،اُن کی ضمانت ہونی چاہیے۔بینظیرپرحملے کے وقت انہیں چھوڑکر بھاگنے والوں کو وزیر بنانے کے حوالے سے کئے گئے سوال پر صدر زرداری نے کہا کہ وہ فرحت اللہ بابر، رحمان ملک اوربابراعوان کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے،اصول وہ بھی روالپنڈی میں جلسے کے خلاف تھے مگرکسی اورشخصیت کے کہنے پر بی بی وہاں جلسے کیلئے گئیں تھیں جس کا میں نام نہیں لینا چاہتا،میں بی بی کو پاکستان آنے سے روکا تھا، میں صرف بیت اللہ محسود کو بے نظیر کا قاتل نہیں سمجھتا، ان کے پیچھے بھی کوئی اور لوگ تھے،کونڈا لیزا رائس کی کتاب میں بھی اس کے کچھ اشارے ملے ہیں۔اقوام متحدہ نے بھی ہم سے انصاف نہیں کیا۔بی بی نے مارک سیگل کو ای میل میں کہہ دیا تھا کہ اگر میں ماری گئی تو اس کاذمہ دار پرویز مشرف ہوگا۔ہم نے مشرف کو گارڈ آف آنر نہیں دیا،سب کو ملک مشرف کا ٹرائل کرنا چاہیے تھا لیکن اس سے فوج ڈی مورالائز ہوتی اس لئے مناسب نہیں سمجھا، میں اس جانے کے بعد بہت بعد صدر بنا ہوں،اس کے واپس آنے پر ٹرائل کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ کرے گی۔قاتل لیگ سے اتحاد سے متعلق سوال کے جواب میں صدرنے کہا کہ ہم نے 1989میں بھی چوہدریوں سے دوستی کی کوشش کی تھی،یہ آج کی بات نہیں ہے۔جنرل کیانی کو ایکسٹینشن دینے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے،نوازشریف نے اس حوالے کوئی مشورہ نہیں دیا صرف اعلانات کئے،اس وقتمیاں صاحب سے اتنی ملاقاتیں نہیں ہوتی تھیں جتنا آپ سمجھتے تھے۔اگر وہ اس بات کے مخالف تھے تو سڑکوں پر کیوں نہیں آئے۔صدر نے چیف جسٹس کے ساتھ ذاتی لڑائی کا تاثر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ این آر او کیس میں سوئس کورٹس کو خط لکھنے کا فیصلہ وزیر اعظم نے کرنا ہے اور وہ اس کو مناسب نہیں سمجھتے کسی نے خط لکھنا ہوتو ہمارے بعد لکھ لے۔