تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
8 جنوری 2012
وقت اشاعت: 7:52

ڈرونز حملوں کی بندش سے عسکریت پسند دوبارہ منظم، امریکی اخبار

جنگ نیوز -


کراچی…رفیق مانگٹ… پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرونز حملوں کی بندش سے عسکریت پسند دوبارہ منظم ہو رہے ہیں،انہوں نے پاکستانی سیکورٹی فورسز پر حملے تیز کردیئے ہیں،ان حملوں کے رکنے سے افغانستان میں اتحادی افواج کے خلاف حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔نومبر میں پاکستانی چیک پوسٹ پر امریکی حملے کے واقعے سے عسکریت پسند بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔سی آئی اے پاکستان سے بہتر تعلقات کی امید کی خاطر حملے نہیں کررہی ۔ امریکی اخبار’نیو یارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تقریباً دو ماہ سے ڈرونز حملوں کی خاموشی نے القاعدہ اور کئی پاکستانی عسکریت پسند دھڑوں کودوبارہ منظم کرنے میں مدد دے رہے ہیں جس سے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور افغانستان میں اتحادی فوجوں کے خلاف حملے تیزہونے کا خطرہ ہے۔نومبر کے پاکستانی فوجی پوسٹ پر امریکی فضائی حملے کے واقعے سے پاک امریکا تعلقات انتہائی کشیدگی پر پہنچ چکے ہیں۔ امریکی امرکزی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کو امید ہے کہ و ہ پاکستان کے ساتھ معاملات کوبدتر ہونے سے بچا لیں گے جب کہ پاکستان امریکا کے ساتھ سلامتی تعلقات کا وسیع جائزہ لے رہا ہے ،سی آئی اے نے پاکستان سے بہتر تعلقات کی خاطر وسط نومبر سے ڈرونز حملوں کو روکا ہوا ہے۔ سفارت کاروں اور انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سی آئی اے نے میزائل حملے روک کرعسکریت پسندی کی تحریک کو آزادی دے دی ہے جس کی ڈرونز حملوں کی وجہ سے کمر ٹوٹ گئی تھی۔گزشتہ ہفتوں میں کئی عسکریت پسند دھڑوں نے اپنے اختلافات کو ختم کرکے دو بارہ گٹھ جوڑ شروع کردیا ہے۔ دیگر عسکریت پسند گروپوں نے پاکستانی افواج پر حملے شروع کردیئے ہیں جس کی حالیہ مثال گزشتہ ہفتے طالبان عسکریتپسندوں نے 15 سیکورٹی فوجیوں کا اغوا اور قتل ہے۔ گزشتہ برسوں کی نسبت قبائلی علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں میں2011میں دس فی صد اضافہ ہوا۔2010میں117ڈرونز حملے ہوئے اور2011میں ان حملوں میں64فی صد کمی آئی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.