8 جنوری 2012
وقت اشاعت: 15:41
27سے 30جنوری کے درمیان کراچی پہنچونگا ،پرویزمشرف
جنگ نیوز -
کراچی…سابق صدر پاکستان اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ میں 27سے 30جنوری کے درمیان کسی بھی وقت کراچی پہنچونگا ، آج کا جلسہ سونامی نہیں بلکہ زلزلہ ہے، اور اس زلزلے سے فرق ضرور پڑے گامیں پاکستان واپس آنا چاہتا ہوں، لوگ مجھے ڈراتے ہیں مگر میں ڈرنا والا نہیں، میں نے جنگیں لڑی ہیں، میں ضرور آؤنگا، طویل اننگز کھیلی ہے، جانتا ہوں کہ قوم کے لیے کیا کرنا ہے۔میں اپنے لیے نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے لیے اور پاکستان کے لیے آرہا ہوں،انھوں نے کہا کہ چاہے میری جان کو خطرہ ہوں میں ملک اور عوام کے لیے اپنی جان کی بازی لگاکر واپس آؤنگا، ہماری کامیابی تب ہوگی جب پاکستان کے عوام ہماری بھرپور مدد کرینگے۔انھوں نے ان خیالات کا اظہار اتوار کی شام کراچی کے مزار قائد کے مقابل قائد گراؤنڈ میں منعقدہ آل پاکستان مسلم لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا،سابق صدر نے کہا کہ بنگالی بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے دوسرے ہیں،انھوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں چترال سے الیکشن لڑیں گے،مجھے سندھی، مہاجر،پٹھان، پنجابی، بلوچوں سمیت تمام پاکستانیوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔انھوں نے کہا کہ مزار قائد کو انکی حکومت نے 2002ء میں موجودہ شکل دی۔ہم نے شمالی علاقوں کے عوام کے لیے بڑے پیمانے پر سڑکیں اور ترقیاتی منصوبے مکمل کرائے، گلگت ،بلتستان سمیت چترال میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کرائے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے کچکول توڑ ا اور آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا، اور ملک کو اسکے شکنجے سے نکالا۔پاکستان اس دور میں ترقی کی بلندیوں پر جارہا تھا۔بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاری کرنے وطن آرہے تھے، اشیاء صرف کی قیمتیں مستحکم تھیں غریبوں کو روزگار مل رہا تھا۔کراچی شہر کو خصوصی ترقی دی، کیونکہ یہ شہر پاکستان کا معاشی انجن اور منی پاکستان ہے، انھوں نے کہا کہ شہر کی ترقی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ناظم مصطفے کمال اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے بڑی محنت کی ۔لیکن آج صورتحال مختلف ہے، مہنگائی عروج پر ہے، پٹرول اور گیس کی قیمتیںآ سمان پر ہیں،بیروزگاری کا دور دورہ ہے،ہم ایک بار پھر آئی ایم ایف کے شکنجے میں ہیں، معیشت تباہی کے دھانے پر ہے۔دولت مند لوگ ملک چھوڑ کر جارہے ہیں،اہم ملکی ادارے تباہ ہوگئے ہیں،میں سید ہوں ، آل رسول ہوں،مجھے الله تعالیٰ نے خانہ کعبہ میں کئی بار آنے کا موقع دیا اور مقام نے مقام توبہ پر بھی حاضری دی ہے۔انھوں نے کہا کہ مجھے بلوچستان کے عوام کی حمایت حاصل ہے، بلوچوں اور پختونوں سے ہمدردی ہے،ہم نے کلپربگٹیوں اور مری قبائل کو انکے علاقوں میں واپس بھجوایا، سرداروں نے غریبو ں کو کچھ نہیں دیا۔میری جنگ تو صرف پاکستانی پرچم جلانے والوں اور پاکستانیوں کو قتل کرنے والوں سے ہے۔