تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
9 جنوری 2012
وقت اشاعت: 6:53

سول حکومت نے فوجی دباوٴ پر حقانی سے استعفیٰ لیا، ’نیو یارک ٹائمز‘

جنگ نیوز -


کراچی…رفیق مانگٹ…حقانی کی حمایت پر کمر بستہ سویلین حکومت نے فوجی دباوٴ پر ان سے استعفیٰ لیا،سنہری پنجرے کا سفیر قیدی خود کو کسی چال میں پھنسا ہوامگرغیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ امریکا واپسی کے بعد سے آج حقانی چوتھی بار وزیراعظم ہاوٴس کے سنہری پنجرے سے سخت حفاظتی حصار میں بار آئے۔ انہیں خطرہ ہے کہ کوئی گن مین یا خفیہ ایجنسی انہیں ہلاک کرسکتی ہے۔ امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی چند ماہ قبل واشنگٹن میں دلکش تقریبات کی جان تھے،وہ پر اعتمادی سے سفارت کاروں،جنرلوں،صحافیوں اور وائٹ ہاوٴس کے اتحادیوں کی پر تکلف کھانوں کی میزبانی فرما رہے تھے اور آج پاکستان کے وز یراعظم کی شاہانہ اور اعلی جاہ و جلال کی رہائش گاہ پر خود کو بند کیے ہوئے ہے، متنازع میمو کے خلاف عدالتی جنگ لڑتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال لیا ہے۔انہوں نے میمو تنازع میں امریکا واپسی کے بعدصرف تین بار وزیر اعظم کے اس صحن سے باہر قدم رکھا ہے،دو بار عدالتی کارروائی کی خاطر اور ایک بار ڈینٹسٹ کے ساتھ طبی وجو ہ پر اور ہر بار وہ سخت سیکورٹی فورسز کے حصار سے باہر نکلے اور آج چوتھی بار وہ کمیشن میں پیش ہوئے۔اخبار کے مطابق حقانی کی حمایت کرنے والی سویلین حکومت نے فوجی دباوٴ پر ان سے استعفیٰ لیا اور ان کے پاسپورٹ کو بھی نومبر میں قبضے میں لے لیا گیا تھا۔ حسین حقانی نے اپنی زندگی کو دو قسم کے خطرات کا خدشہ ظاہر کیا ہے ان کے مطابق میمو تنازع نے جنونی پن پیدا کردیا اور پاکستان میں وسیع پیمانے پر امریکا مخالف جذبات کی وجہ سے انہیں کسی بھی گن مین کی طرف سے گولی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اوردوسرے خطرے کی نشاندہی ان کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کی جس میں انہوں نے کہا کہ ملک کی خفیہ ایجنسی اسے اغوا کرکے ہلاک کرسکتی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.