9 جنوری 2012
وقت اشاعت: 8:19
منصور اعجاز کو پاکستان کا ویزہ دینے کی ہدایت کردی، اٹارنی جنرل
جنگ نیوز -
اسلام آباد… اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے کہاہے کہ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو میموگیٹ کے کردار منصوراعجاز کو ویزے کے اجراء کی ہدایت کردی گئی ہے ۔ اٹارنی جنرل نے آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں میموگیٹ کمیشن کی کارروائی میں وقفہ کے دوران جیونیوز سے گفت گو کی۔ اٹارنی جنرل نے بتایاکہ ، لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کو کہہ دیاگیا ہے کہ جیسے ہی منصوراعجاز کی جانب سے ویزا کی درخواست آئے تو انہیں فوری ویزا جاری کردیاجائے ۔اس سے قبل میموگیٹ کے مبینہ کردارحسین حقانی نے موجودہ مرحلے پر تحقیقاتی کمیشن کے سامنے بلیک بیری فون سے متعلق حق رازاداری نہ چھوڑنے کا بیان دیا ہے۔ میموگیٹ کے تحقیقاتی کمیشن کا اجلاس ، جسٹس فائزعیسی کی زیر صدارت ، اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں ہوا، کمیشن کے دیگر ارکان میں جسٹس اقبال حمیدالرحمن، جسٹس مشیرعالم شامل تھے، آج کمیشن روم میں میموکیس کے درخواست گزار نوازشریف اور دیگر مسلم لیگی رہنماء ، میموگیٹ کے مبینہ کردار حسین حقانی خود اور انکے وکیل جبکہ دوسرے بڑے کردار منصوراعجازکے وکیل اکرم شیخ موجود تھے،کمیشن کو بتایاگیاکہ آرمی چیف ، دورہ چین کی وجہ سے نہیں آسکے، اکرم شیخ نے کہاکہ وزیرداخلہ رحمان ملک نے بیان دیاہے کہ منصوراعجاز کے خلاف مقدمہ درج ہوگا، کمیشن کے پوچھنے پر سیکریٹری داخلہ نے کہاکہ وہ اس پر لاء ڈویژن سے پوچھ کر بتاسکتے ہیں، اس پر کمیشن نے برہمی کا اظہارکیا اور کہاکہ آپ پر ابھی توہین عدالت کا چارج لگایاجاسکتا ہے، اٹارنی جنرل نے بھی کہاکہ وہ ایساکوئی مقدمہ نہ ہونے کی یقین دہانی نہیں کراسکتے، اکرم شیخ کاکہناتھاکہ انکے موکل کو ویزا جاری نہیں ہورہا،حسین حقانی نے کہاکہ منصوراعجاز پہلے یہ ثابت کریں کہ بلیک بیری میسنجر کا میمو سے تعلق ہے، انہیں اپنا سرکاری بلیک بیری پیش کرنے کیلئے حکومت سے اجازت لینا ہوگی، حقانی کے وکیل نے میموکیس میں نظرثانی درخواست دائرکیئے جانے کا کہااور یہ بھی سوال اٹھایاکہ کمیشن کس قانون کے تحت کام کررہا ہے ، کمیشن نے جب یہ پوچھا کہ وہ کونسے گواہ پیش کرناچاہتے ہیں تو زاہدبخاری نے کہاکہ وہ دو ہفتوں میں سوچ کربتائیں گے، کمیشن نے کہاکہ کیا یہ وقت زیادہ نہیں، پھر نہ کہیئے گاکہ آپکے موکل کا حق متاثر ہوا،بعد میں کمیشن کی کارروائی میں وقفہ کردیاگیا۔