5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
ایل این جی کیس،فیصلہ آنے تک معاہدے پردستخط نہیں کیے جائیں گے
http://www.jang.net/tp_db_agg/taza/12-30-1899_8626 -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے ایک فرانسیسی کمپنی کو مائع قدرتی گیس کی درآمد کا ٹھیکہ دینے پر ای سی سی کا رکارڈ طلب کرلیا ہے جبکہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ریمارکس میں کہا ہے کہ قومی دولت کا ضیاع نہیں ہونے دیا جائے گا ? چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ایل این جی امپورٹ ٹھیکہ میں قومی خزانے کو مبینہ نقصان کے مقدمہ کی سماعت کی ،، عدالت نے سیکریٹری کیبنٹ سے ٹھیکہ کے اجرا کی فائل اور اس سے متعلقہ ای سی سی کا رکارڈ طلب کیاہے?وزارت پٹرولیم کے وکیل ایس ایم ظفر نے بتایا کہ ایل این جی امپورٹ کنٹریکٹ ایوارڈ کرنے کی تقریب عدالتی فیصلہ آنے تک نہیں کی جائے گی جبکہ فرنچ کمپنی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ کمپنی نے ایل این جی ٹھیکہ پر اپنی پیش کش کی مدت 30 اپریل تک بڑھادی ہے? چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ قومی دولت کا اس طرح ضیاع نہیں ہونے دیا جائے گا?سماعت کے دوران سوئی سدرن گیس کمپنی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے اپنا بیان رکارڈکرایا?ان کا کہنا تھا کہ گیس کمپنی کے تحفظات کے باوجود سابق مشیر ڈاکٹرعاصم حسین نے ایل این جی کا ایک مختصر مدتی منصوبہ شروع کرادیاتھا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کے غیرقانونی حکم کونہیں ماننا چاہیے?عدالت نے فوجی فاؤنڈیشن اور سوئی سدرن کے سربراہان سے تفصیلی موقف طلب کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت 21 اپریل تک ملتوی کردی?