تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41

عدلیہ نے ترامیم کو رد کیا تو بہت بڑا تصادم ہوگا، اعتزاز احسن

http://www.jang.net/tp_db_agg/taza/12-30-1899_8655 -
کراچی. . . . . . .معروف قانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے اٹھارویں ترمیم کواتفاق رائے سے منظور کیا ہے جسے عدلیہ کو رد کرنا مشکل ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو اس سے عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان بہت بڑا تصادم ہوسکتا ہے?اعتزاز احسن نے یہ بات کراچی میں سول سوسائٹی آف پاکستان کے تحت سیمینار سے خطاب اور سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہی ?ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات ہونے چاہئیں ،اٹھارویں ترمیم میں آرٹیکل17 کی شق4 کا خاتمہ درست فیصلہ نہیں ہے ?اقوام متحدہ کی کمیشن کی جانب سے بے نظیر بھٹو شہید قتل کیس کی رپورٹ کے سوال پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے سے اندیشہ تھا کہ اقوام متحدہ کی کمیشن کی رپورٹ بے نتیجہ ہوگی ،ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کا دائرہ محدود تھا اس نے صرف سوالات اٹھائے گئے ہیں ، اعتزاز احسن نے کہا کہ قتل کیس کی تفتیش ملک کے اداروں کر کرنی چائیے اور ملک کے عوام اس بات کے منتظر ہیں قتل کیس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے کو لایا جائے?نئے صوبوں کے سوال پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے مطالبہ سے وفاق کمزور نہیں ہوگا، اختیارات نچلی سطح پر پہنچنے سے وفاق مزید مضبوط ہوگا?ان کا کہنا تھا کہ ون یونٹ کے رد عمل سے ملک ٹوٹ گیا?انہوں نے تجویز پیش کی کہ نئے صوبوں کے مطالبہ پر سوچ بچار ہونی چاہے، حکومت اس سلسلے میں کمیشن تشکیل دے جسے پانچ سے سات سال کا ٹائم فریم دیا جائے تو اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملے اور اپنی سفارشات پیش کرے ?ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم خوش آئند قدم ہے میرے خیال میں اس پر مزید بحث ہونی چاہئے تھی?اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی برطانوی راج کے سحر اور پاور مائنڈ سیٹ سے باہر نہیں نکل سکے ہیں? اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی نے عدلیہ کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا? ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کی فراہمی اور معیشیت کی بہتری حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، معاشرے کی بہتری کے لیے سول سوسائٹی کو بھی اپنا قرادار ادا کرنے کی ضرورت ہے ، وکیل رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت پر تنقید اور کی جانی چاہئے لیکن سول سوسائٹی کو بھی کردار نبھانے کے لیے اپنی سمت کا تعین کرنا ہوگا، اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ملک میں دوہرا تعلیمی نظام رائج ہے، اشرافیہ کے لیے بنے تعلیمی اداروں کے لوگ اپنے ملک کے بجائے دیگر ممالک جاکر خدمات انجام دینے کو ترجیح دے رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اعلی? تعلیم یا فتہ طبقے کے ملک سے باہر جانے کے رجحان سے پاکستان برین ڈرین کا شکار ہے ، انہوں نے کا کہا کہ ملکی معیشت بدتر حالات میں ہے، بہتری کے آثار نظر نہیں آرہے ،حکومت کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے سوچنا چائیے اور اپنی سمت درست کرنی چاہیے?

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.