5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
یورپی ممالک میں برقعے پر پابندی کی قانون سازی تاحال نامکمل،رپورٹ
http://www.jang.net/tp_db_agg/taza/12-30-1899_8709 -
پیرس…نمائندہ جنگ…فرانس اور بیلجیم سمیت دیگر یورپی ممالک میں برقعے پر پابندی لگانے کیلئے گذشتہ ایک سال سے قانون سازی کیلئے بحث جاری ہے مگر ابھی تک اس سلسلے میں قانون سازی مکمل نہیں ہوسکی? مکمل جسم ڈھانپنے والا برقعہ استمال کرنے والی خواتین کی صرف آنکھیں نظر آرہی ہوتی ہیں اور ان میں سے اکثریت نے ہاتھوں کو دستانوں سے ڈھانپ رکھا ہوتا ہے? قانون سازی کے دوران ایسے برقعے کے استمال کو خواتین کے ساتھ زیادتی قرار دیا جارہا ہے، جبکہ ایک بار نہیں متعد بار سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ اس قسم کابرقعہ استمال کرنے والی خواتین کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے? بعض ذرائع اور میڈیا رپورٹس میں اس برقعے کے استمال کی آڑ میں دھشت گردی کے امکان کا بھی خدشہ ظاہر کیاجاچکا ہے کیونکہ اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس برقعے میں عورت ہے یا مرد? تازہ اطلاعات کے مطابق برقعے پر پابندی کی قانون سازی کے مکمل ہونے کے بعد یورپی ممالک میں سیاحت اور سیرو تفریح کیلئے آنے والوں پر اس قانون کا اطلاق ہو گا? بعض سروے رپوٹس کے تحت یورپی ممالک آنے والوں ساحوں پر بھی برقعہ کی پابندی سے یورپی ممالک میں ٹورزم کا شعبہ متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے?