5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
دو ہمسایہ ایٹمی ریاستوں کے پاس ڈائیلاگ کے سوا کوئی راستہ نہیں،شاہ محمود
http://www.jang.net/tp_db_agg/taza/12-30-1899_8712 -
ملتان …وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دو ہمسایہ ایٹمی ریاستوں کے پاس ڈائیلاگ کے سوا کوئی راستہ نہیں ، بھارت کو اپنی سوچ میں تبدیلی لانا ہوگی اور میز پر آنا ہو گا?یہ بات انہوں نے ملتان کی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے دسویں کانووکیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ?انہوں نے کہا دونوں طرف لوگ امن کی بات کر رہے ہیں، من موہن سنگھ بھی مثبت ہیں اور وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن اصل مسئلہ ہندوستان کی مقامی سیاست کا ہے جس میں اندرون اتفاق رائے نہیں? انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات معطل ہیں اور بیک چینل ڈپلومیسی میں پیش رفت ہو شاید ایسا ممکن نہ ہو? انہوں نے کہا کہ ڈائیلاگ بحال ہوں گے تو کشمیر،پانی اور دیگر مسائل پر بھی بات ہوگی، سعودی عرب اور امریکا بھی ان مذاکرات کی بحالی چاہتے ہیں امریکا سمجھتا ہے کہ پاکستان مشرقی سرحد سے مطمئن ہو گا تو مغربی سرحد پر توجہ دے گا افغانستان سے پانی کے ایشو پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ضرورت کا17 فیصد پانی دریائے کابل اور آبی ذرائع سے ملتا ہے اور ہم نے صدر کرزئی کے آخری دورہ اسلام آباد میں ان سے اس معاملے پر ان سے بات کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ موجود ہے اسی طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی اس کا طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے ?