5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
کراچی میں18-20فیصد بجلی چوری ہو رہی ہے،تنظیم نقوی
http://www.jang.net/tp_db_agg/taza/12-30-1899_8724 -
کراچی…کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر تنظیم حسین نقوی نے کہا ہے کہ بجلی چوری کو روکنا ایک مثبت اقدام کے مترادف ہے جبکہ بجلی چوری کے کنکشن فراہم کرنیوالے ایک الیکٹریشن کا کہنا ہے کہ چھاپہ مار ٹیم میں چوری پکڑنے کی صلاحیت کم ہے?کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر تنظیم حسین نقوی نے جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بجلی چوری کے دو حصے ہیں ایک ٹیکنیکل خسارہ اور دوسرا چوری? انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں1994سے1995 کے دوران کے ای ایس سی کا لائن خسارہ24 سے25 فی صد تھا جو اب بڑھ کر40 فی صد تک پہنچ گیا ہے?انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کراچی میں7 سے8 فیصد تیکنکی خسارہ ہے، جبکہ18 سے20 فی صد بجلی چوری ہوتی ہے?دوسری جانب بجلی چوری کی سہولت فراہم کرنیوالے بجلی کے ایک ملازم نے بتایا کہ بجلی کی چوری کی سہولت ادارے کے ملازمین کے ذریعے ہی فراہم کی جاتی ہے اور ہر سنگل فیز میں نیوٹرل ختم کرکے فیز کو ارتھ کے ساتھ منسلک کردیا جاتا ہے جبکہ بجلی کی چوری میٹر اور ڈمرز کے ذریعے بھی کی جاسکتی ہے?بجلی چوری کے ماہر کا کہناتھا کہ سنگل فیز کے گھریلو صارفین سے بجلی چوری کے پوائنٹ لگانے کے10 ہزار روپے اور تھری فیز پر15ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں?