5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
معاملات طے پاگئے ،بجلی کی قیمتوں میں فی الحال اضافہ نہیں کررہے،حفیظ شیخ
http://www.jang.net/tp_db_agg/taza/12-30-1899_8728 -
واشنگٹن. . . . . . . . مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاملات طے پاگئے ہیں، بجلی کی قیمتوں میں چھ فیصد اضافہ فی الحال نہیں کیا جائے گا جبکہ آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس14 مئی کو ہوگا جس کے بعد گیار ارب تیس کروڑ ڈالر قرضے کی اگلے قسط مل جائے گی?واشنگٹن میں عالمی مالیاتی ادارے سے مذاکرات کے طویل راؤنڈ اور امریکی حکام سے ملاقاتوں کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب میں عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے بجلی کے ٹیرف میں مرحلہ وار اضافے کی شرط طے ہوئی تھی جسے پورا کرنا ہے، مگر وقتی طور پر چھ فیصد اضافے کو موخر کردیا گیا ہے?مشیر خزانہ نے بتایا کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کیلئے فوری طور پر چھ اقدامات کیے گئے ہیں? جن میں دستیاب وسائل کا بہتر استعمال،گیس کے استعمال میں بہتری، ایندھن کے حصول کی کوششیں، قومی توانائی پالیسی کا اعلان، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی کارکردگی میں بڑھانے پر توجہ اور لوڈ مینجمنٹ میں بہتری شامل ہیں? موثر اقدامات سے بجلی کے بحران میں 40فی صد کمی آئے گی اورگرمیوں میں بجلی کا شارٹ فال کم ہو جائے گی?انہوں نے بتایا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے وسط مدتی منصوبہ بندی میں سرمایا کاری کو بنیاد بنایا گیا ہے? سرمایا کاری کیلئے کوئلے اور ہائیڈل منصوبوں کو اولیت دی جائے گی?حفیظ شیخ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تمام معاملات طے ہو گئے ہیں? آئی ایم ایف کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ کی یقین دہانی کرادی گئی ہے? پاکستان کو گیارہ ارب تیس کروڑ کے قرضے کی پانچویں قسط جاری کرنے کیلئے اگلے ماہ کی 14 تاریخ کو آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس ہوگا جس کے بعد ایک ارب تیس کروڑ ڈالر جاری کردیے جائیں گے?مشیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی منصوبہ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ امریکی حکام کے ساتھ تجارتی تعلقات پر مذاکرات میں پیش رفت ہوئی? حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں اور حکومت نے اس سلسلے میں مثبت اقدام کیے ہیں? انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت ہے اور نئے ٹیکسز لگانے کا جائزہ لیا جائیگا? مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ٹرانزٹ ٹریڈ پر نیا معاہدہ نہیں کیا جائے گا بلکہ موجودہ معاہدے کے تحت یہ جاری رہے گی? انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں اصلاحات اور فزیکل اسٹیبلیٹی لانے کی اشد ضرورت ہے?